خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد پنجم 47 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء ذرہ حال سے مجھے اطلاع دیں اور خدا بہت قادر ہے۔تسلی دیتے رہیں۔چوزہ کا شور با یعنی بچہ خورد کا ہر روز دیا کریں۔معلوم ہوتا ہے کہ دستوں کی وجہ یہ ہے کہ کمزوری نہایت درجہ تک پہنچ گئی ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد رض (سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 187-188) تو بیماری کی وجہ سے خود جا نہیں سکتے تھے۔بیماری میں انسان ویسے بھی زیادہ رقیق القلب ہو جاتا ہے۔اپنی اس حالت میں کسی کو بیمار دیکھنا اور بہار بھی وہ جو آپ کو بہت عزیز تھا، آپ کو برداشت نہ ہوسکتا تھا۔لیکن اس حالت میں بھی اپنے عزیز مریض کے لئے دعا کی انتہا کر دی۔اور فرمایا کہ مجھے روزانہ اس کی صحت کی اطلاع بھی دیا کرو۔حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں کہ جہاں آپ کی عادت میں یہ تھا کہ آپ سائل کو کبھی رد نہ کرتے تھے۔یہ امر بھی آپ کے معمولات میں تھا کہ بعض لوگوں کی ضرورتوں کا احساس کر کے قبل اس کے کہ وہ کوئی سوال کریں، ان کی مدد کیا کرتے تھے۔چنانچہ 28 /اکتوبر 1904ء کی صبح کو قبل نماز فجر آپ نے کچھ روپیہ جس کی تعداد آٹھ یا دس ہوگی ایک مخلص مہاجر کو یہ کہ کر دیئے کہ موسم سرما ہے آپ کو کپڑوں کی ضرورت ہوگی۔اس مہاجر کی طرف سے کوئی سوال نہ تھا۔خود حضوڑ نے اس کی ضرورت محسوس کر کے یہ رقم عطا کی۔لکھتے ہیں کہ یہ ایک واقعہ نہیں متعدد مرتبہ ایسا ہوتا اور مخفی طور پر آپ عموماً حاجتمند لوگوں سے سلوک کرتے رہتے۔اور اس میں کسی دوست ، دشمن، ہندو یا مسلمان کا امتیاز نہ تھا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب على صاحب عرفانی صفحه 298 299) تو یہ ہے اس رحمن خدا کی صفت جو اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ کے عاشق صادق نے اس رحمۃ للعالمین کی اتباع میں اپنے پر جاری فرمائی اور نمونے دکھائے کہ بن مانگے بھی دیتے ہیں۔پھر اسی طرح ایک اور واقعہ ہے عرفانی صاحب ہی لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت میں یہ امر بھی داخل تھا کہ بعض اوقات وہ کسی کی حاجت یا ضرورت کا احساس کر کے اس کے سوال یا اظہار کے منتظر نہ رہتے تھے بلکہ خود بخود ہی پیش کر دیا کرتے تھے۔لکھتے ہیں کہ مکرمی شیخ فتح محمد صاحب پنشنر انسپکٹر ریاست کشمیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرصہ دراز سے آنے والے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب کبھی حضرت کی خدمت میں آتا تو ہمیشہ میرا کرایہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے۔مگر مجھے چونکہ ضرورت نہ ہوتی تھی میں نے کبھی نہیں لیا۔ملنے آتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کرایہ دیا کرتے تھے لیکن کہتے ہیں کہ میں لیتا تو نہیں تھا۔لیکن حضرت کی روح سخاوت اس قدر عظیم الشان تھی کہ آپ بغیر استفسار ہمیشہ پیش کر