خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 531 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 531

خطبات مسر در جلد پنجم 531 خطبہ جمعہ 28 دسمبر 2007ء انتہائی نا گفتہ بہ ہیں۔حکومت بھی بظاہر لگتا ہے کہ بالکل مجبور ہو چکی ہے ، نہ ہونے کے برابر ہے اور ہر چیز دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہاتھوں میں ہے۔اسلام کا نام لے کر اسلام کے احکامات کے خلاف حرکتیں کی جارہی ہیں۔اللہ کا رسول تو یہ کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہی نہیں ہے جس نے دوسرے مسلمان کو مارا اور یہاں ہر ایک دوسرے کو مارنے پر تلا ہوا ہے۔ہر روز درجنوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔دہشت گردی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔کئی بچے یتیم ہو رہے ہیں، کئی عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں۔کیوں کے سہاگ اجڑ رہے ہیں۔لیکن ان کو کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہو رہا ہے، کس طرف یہ لوگ جارہے ہیں۔تو دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور سمجھ دے۔احمدیوں کا تو اس ملک کے قیام میں بھی حصہ ہے۔احمدیوں کے خون اس ملک کے قیام کے وقت بھی ہے ہیں۔احمدیوں کے خون اس ملک کی تعمیر میں بھی بہے ہیں۔احمدیوں کے خون اس ملک کی حفاظت کے لئے بھی ہے ہیں۔اور یہ وطن سے محبت کا تقاضا بھی ہے کہ ہم آج بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں۔کیونکہ اب جو حالات ہیں ویسے بھی ہمارے پاس اور کوئی طاقت نہیں جو ظلم کو روک سکیں۔ظلم سے روکنے کے لئے ایک چیز جو ہمارے پاس ہے وہ دُعا ہے۔اس لئے دُعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دیں۔پاکستان میں رہنے والے احمدی بھی بہت زیادہ دعائیں کریں۔دنیا کے دوسرے ملکوں میں جو پاکستانی احمدی رہ رہے ہیں وہ بھی اس ملک کے لئے دعا کریں۔بلکہ دنیا میں رہنے والے غیر پاکستانی احمدی بھی دعا کریں کہ پاکستانی احمدیوں کا ان ملکوں پر یہ بھی احسان ہے کہ انہوں نے پہلے جا کر وہاں اس زمانے کے امام کا پیغام پہنچایا اور انہیں وہ راستے دکھائے اور انہیں وہ تعلیم دکھائی اور اس آسمانی پانی سے آگاہ کیا جو اس زمانے کے امام کے ذریعے ہم تک پہنچا۔تو احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی کو آج کل پاکستانی احمدیوں کے لئے اور ان کے ملک کے لئے دعا کرنی چاہئے۔احمدی جو پاکستان میں ہیں اپنے ماحول میں بھی اس طرف توجہ کریں۔غیروں میں بھی ان کا کچھ نہ کچھ اثر ہوتا ہے، ان کو توجہ دلائیں کہ تم لوگ یہ کس ڈگر پر چل پڑے ہو۔اللہ تعالیٰ نے تم پر ایک ملک دینے کی صورت میں جو احسان کیا تھا جہاں تم آزادی سے رہ سکتے ہو، کیوں اس کی بربادی پر تلے ہوئے ہو۔جو قو میں انعامات کی قدر نہیں کرتیں پھر وہ انعامات سے محروم کر دی جاتی ہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا پاکستان میں رہنے والے ہر احمدی کا فرض ہے کہ اپنے ماحول میں اس طرف توجہ بھی دلائیں جہاں تک ان کا اثر ہے اور دُعا بھی بہت کریں بلکہ دنیا کے رہنے والے ہر احمدی کا فرض ہے کہ دعا کریں اور بہت دعا کریں۔حالات انتہائی خطرناک ہوتے چلے جارہے ہیں حد سے زیادہ بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور جو بم