خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 528

خطبات مسر در جلد پنجم 528 خطبہ جمعہ 28 دسمبر 2007ء آنحضرت ﷺ جو حضرت موسیٰ سے بڑھ کر شرعی احکامات لائے ، وہ آخری شریعت لائے جس پر دین اپنے کمال کو پہنچ گیا۔تو آپ کے ماننے والوں کے صبر و شکر کے معیار بھی بہت اونچے ہونے چاہئیں تبھی وہ اُن حقیقی انعامات کے وارث ٹھہریں گے جو آپ سے وابستہ ہیں۔حضرت موسیٰ کی قوم نے جب تک انعامات کی قدر کی ، فیض پاتے رہے۔جب انعامات کی قدر نہیں کی تو ان سے انعامات چھین لئے گئے۔یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صبر اور شکر ایک مسلسل عمل اور جد و جہد کو چاہتا ہے۔ایک استقلال کے ساتھ ان نیکیوں پر چلتے چلے جانے کا نام صبر اور شکر ہے جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں حکم دیا ہے۔ایک تسلسل سے اس جہادا کبر کی ضرورت ہے جو قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کے ذریعہ سے کرنا ہے جس میں اپنے نفس کی صفائی بھی ہے اور تبلیغ بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی شکر گزاری بھی ہے اور یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں اور یہی چیز صبر وشکر کے زمرہ میں آتی ہے تاکہ تسلسل قائم رہے اور ان انعامات پر ایک بندہ ، ایک مومن، اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہو۔فی زمانہ اللہ تعالیٰ کی اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوگی کہ جب اسلام کی نہایت کسمپرسی کی حالت تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کی صورت میں ایک جری اللہ مبعوث فرمایا جو آ نحضرت ﷺ کا حقیقی غلام ہے۔اس عظیم رسول کا غلام ہے جس نے موسیٰ کی قوم سے بڑھ کر ظلمت میں ڈوبے ہوؤں کو نور عطا فرمایا۔حضرت موسی کی مثال دینے سے یہ مطلب نہیں کہ حضرت موسیٰ کا مقام آنحضرت ﷺ سے بڑا تھا، اس لئے ان کے نمونے پر چلو۔بلکہ یہ مثال ہے کہ رسولوں کو ہم اس مقصد کے لئے بھیجتے ہیں کہ وہ قوموں کو اندھیروں سے نور کی طرف لائیں اور جو قو میں اس چیز کے حصول کے بعد یعنی نور کی طرف آنے کے بعد مستقل مزاجی سے قائم رہتی ہیں وہ آیت اللہ بن جاتی ہیں۔جوست ہو جاتی ہیں ، صبر اور شکر کے نمونے نہیں دکھاتیں ان سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ ! مسلمانوں کو بھی بتا دے کہ اس اصول کو پکڑ کر رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کی ان آیات کے جو تبشیری آیات ہیں حقدار کہلائیں گے۔پس اس اصل کو پکڑتے ہوئے اُس نعمت کی بھی قدر کرو جو اس زمانے میں مسیح موعود کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اتاری تھی تا کہ پھر کھوئی ہوئی عظمت واپس آئے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَذَكَرْهُمْ بِأَيْمِ اللهِ یعنی انہیں اللہ کے دن یاد کرا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ظلمت سے نور کی طرف نکالنے کا اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ طریق بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی طرف توجہ دلا۔انہیں بتا کہ مومنین کے ساتھ کتنی بشارتیں وابستہ ہیں۔کیا کیا انعامات مومنین کے لئے ہیں۔دوسرے یہ کہ سزاؤں سے خوف دلایا جائے۔پس یہ حالات قرآن کریم میں محفوظ کر کے مسلمانوں کو مستقل نصیحت فرما دی کہ تمہاری نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے