خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 529
529 خطبہ جمعہ 28 /دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم انعامات پر رہنی چاہئے اور پھر دوسری اس چیز پر رہنی چاہئے کہ جو نا فرمانی کرنے والے ہیں ان کو نا فرمانی کی صورت میں جو سزائیں ملیں ، جو عذاب آئے ان پر نظر رکھو۔تبھی ایک انسان شیطان کے حملوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو یہ بات سمجھنے کا فہم و ادراک عطا فرمائے۔( ملخص از تفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 445) اللہ تعالیٰ قرآن کریم سورۃ النحل میں فرماتا ہے وَاللَّهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاحْيَابِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٌ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (النحل: 66) اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کر دیا۔یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے بہت بڑا نشان ہے جو (بات ) سنتے ہیں۔اس پانی اتارنے میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے لئے جو بات سنتی ہے نشان بتایا ہے، یعنی پانی کا اتر نا نشانی ہے سننے والوں کے لئے۔جبکہ اسی سورۃ کی پچھلی آیات میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُمْ اور یہ جو پانی اتارا ہے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ پانی میں نے تمہارے لئے اتارا۔اس کے بارے میں ان آیات میں فرماتا ہے کہ اس پانی سے تم پیتے بھی ہو اور جانور بھی پیتے ہیں، اور تمہارے درخت اور فصلیں بھی تیار ہوتی ہیں جو تمہارے فائدے کے لئے ہیں۔لیکن یہ جو میں نے ابھی آیت پڑھی ہے اس میں جیسا کہ میں نے کہا اور ہم نے ترجمہ دیکھا کہ زمین کے زندہ کرنے کے لئے جو پانی اتارا اس میں نشان ہے سننے والوں کے لئے اور پانی کا سننے سے تو کوئی تعلق نہیں ہے۔پانی کا تعلق جیسا کہ پہلی آیت میں بیان ہوا ہے پیاس بجھانے اور فصلوں اور پودوں کی پرورش سے ہے۔تو یہاں جو سننے کے ساتھ اس پانی کے اُترنے کو ملایا ہے اس کا کچھ اور مطلب ہوگا۔کچھ اور مراد ہونی چاہئے۔اس کے لئے جب اس آیت سے پہلی آیت دیکھتے ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تجھے پر اس لئے اتاری ہے کہ جن باتوں کے متعلق پہلی امتوں نے اختلاف پیدا کیا ہوا ہے، ہر ایک اپنے آپ کو صحیح سمجھتی ہے، ان اختلافات کو کھول کر بیان کریں تا کہ مسیح تعلیم اور حقیقت کا انہیں پتہ چلے۔اور جو اس پر ایمان لائیں انہیں اس کے ذریعہ سے ہدایت اور راہنمائی حاصل ہو۔اور یہ مومنین کی جماعت ایسی بن جائے جن پر رحمتیں نازل ہوں۔پھر اس آیت میں جو میں نے پڑھی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مردہ زمین کو زندگی بخشنے میں سننے والوں کے لئے نشانات پائے جاتے ہیں۔پس یہاں پانی سے مراد روحانی پانی ہے جو انبیاء کے ذریعہ سے آسمان سے نازل ہوتا ہے جو سب سے اعلیٰ اور مصفی حالت میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا۔جس نے بہت سے مردوں کو زندگی بخشی۔پرانی امتوں کے جو آپس کے اختلافات تھے اور قضیے تھے وہ چکائے۔اختلافات ختم کئے۔پس یہ قرآن کریم کی تعلیم ہے جو سننے والوں کے لئے زندگی بخش کلام ہے۔یہاں سننے سے مراد صرف سنا نہیں ہے بلکہ اسے قبول کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا بھی ہے۔پس اس روحانی پانی کا فائدہ اس تعلیم پر عمل کرنے والوں کے لئے ہی ہے نہ کہ ان لوگوں کے لئے جو فرقہ