خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 527
خطبات مسر در جلد پنجم 527 خطبہ جمعہ 28 /دسمبر 2007ء کرتے جائیں گے۔ایسی ترقیاں کرتے جائیں گے جو نہ ختم ہونے والی ہوں گی۔یہ خدا کی باتیں ہیں جو کبھی نہیں ملیں گی۔فرمایا کہ : ” اور تبشیر کے نشانوں کو پالینا ، یہی فوز عظیم ہے ( یعنی یہی ایک امر ہے جو محبت اور معرفت کے منتہی مقام تک پہنچا دیتا ہے )۔اگر خدائے تعالیٰ کے گل نشانوں کو قبری نشانوں میں ہی محصور سمجھ کر اس آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ ہم تمام نشانوں کو محض تخویف کی غرض سے ہی بھیجا کرتے ہیں اور کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی تو یہ معنی بہ بداہت باطل ہیں۔ظاہری طور پر بے معنی باتیں ہیں۔جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے کہ نشان دوغرضوں سے بھیجے جاتے ہیں یا تخویف کی غرض سے یا تبشیر کی غرض سے“۔(بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود عليه الصلواة والسلام۔سورة بنی اسرائیل زیر آیت (60) | پس یہ ہے حقیقت ہر دو قسم کے نشانوں کی کہ مومن کے لئے بشارتیں ہیں۔وہ نشانات ہیں جو اسے نیکی اور تقویٰ میں بڑھانے والے ہیں اور پھر اللہ کا قرب دلانے والے ہیں۔جبکہ غیر مومن کے لئے ، انکار کرنے والے کے لئے ، اس میں انذار ہے ، قہری نشانات ہیں۔اور جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی فعل کبھی محدود نہیں ہوتا انہیں یہ سمجھایا گیا ہے اور قرآن کریم میں انذاری واقعات بیان کئے گئے ہیں تا کہ وہ اس سے سبق حاصل کر سکیں۔پس عقلمند ہے وہ جو ان سے سبق لیتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت سنوارتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر مختلف حوالوں سے یہ ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ کر کون لوگ ایمان لاتے ہیں۔ان میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں یا کون لوگ ہیں جن میں یہ خصوصیات ہوں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔مثلاً سورۃ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِايْتَنَا أَنْ أَخْرِجُ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُم إِلَى النُّورِ۔وَذَكِّرْهُمْ بِأَيْمِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (ابراهیم: 6) اور یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنے نشانات کے ساتھ یہ اذن دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لا اور انہیں اللہ کے دن یاد کرا۔یقیناً اس میں ہر بہت صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔یہاں حضرت موسیٰ کا ذکر کر کے فرمایا کہ ان حالات میں جن میں سے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم گزرے تھے، ان کا صبر و شکر ان کے کام آیا تھا اور فرمایا کہ اس صبر و شکر میں نشانات ہیں۔پس قرآن کریم میں یہ ذکر کرنے کا مطلب ہے کہ مسلمان بھی اس نکتہ کو سمجھیں۔لیکن صبر اور شکر کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ جو ہو، جس طرح بھی ہو، جس حال میں بھی ہو، گھر بیٹھ جاؤ اور کہ دوہم صبر وشکر کر رہے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انعامات کی اس طرح قدر کرو جس پر شکر گزاری بھی ہو اور قناعت بھی ہوا اور صبر بھی ہو۔