خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 526 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 526

526 خطبہ جمعہ 28 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوتا ہے۔2۔نشان تبشیر و تسکین جن کو نشان رحمت سے بھی موسوم کر سکتے ہیں۔تخویف کے نشان سخت کافروں اور کج دلوں اور نافرمانوں اور بے ایمانوں اور فرعونی طبیعت والوں کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں تا وہ ڈریں اور خدائے تعالیٰ کی قہری اور جلالی ہیبت ان کے دلوں پر طاری ہو۔اور تبشیر کے نشان اُن حق کے طالبوں اور مخلص مومنوں اور سچائی کے متلاشیوں کے لئے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو دل کی غربت اور فروتنی سے کامل یقین اور زیادت ایمان کے طلبگار ہیں۔اور تبشیر کے نشانوں سے ڈرانا اور دھمکانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ اپنے ان مطیع بندوں کو مطمئن کرنا اور ایمانی اور یقینی حالات میں ترقی دینا اور ان کے مضطرب سینے پر دست شفقت و تسلی رکھنا مقصود ہوتا ہے۔سو مومن قرآن شریف کے وسیلے سے ہمیشہ تبشیر کے نشان پاتا رہتا ہے اور ایمان اور یقین میں ترقی کرتا جاتا ہے۔تبشیر کے نشانوں سے مومن کو تسلی ملتی ہے اور وہ اضطراب جو فطرتا انسان میں ہے، جاتا رہتا ہے اور سکینت دل پر نازل ہوتی ہے۔مومن با برکت اتباع کتاب اللہ اپنی عمر کے آخری دن تک تبشیر کے نشانوں کو پا تارہتا ہے۔اگر وہ صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرنے والا ہو تو آخری دن تک اس کو بشارتیں ملتی رہتی ہیں۔اور تسکین اور آرام بخشنے والے نشان اس پر نازل ہوتے رہتے ہیں تا وہ یقین اور معرفت میں بے نہایت ترقیاں کرتا جائے اور حق الیقین تک پہنچ جائے۔اور تبشیر کے نشانوں میں ایک لطف یہ ہوتا ہے کہ جیسے مومن اُن کے نزول سے یقین اور معرفت اور قوت ایمان میں ترقی کرتا ہے ایسا ہی وہ بوجہ مشاہدہ آلاء ونعماء الہی و احسانات ظاہرہ و باطنہ۔یعنی وہ ان چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں اور اس کے احسانات ہیں۔”وجلیہ وخفیہ “ جو احسانات و انعامات ظاہر بھی ہیں اور مخفی بھی ہیں ” حضرت باری عز اسمہ جو تبشیر کے نشانوں میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں محبت اور عشق میں دن بدن بڑھتا جاتا ہے۔۔اس قسم کے نشانات، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور احسانات جو ظاہری بھی ہیں اور چھپے ہوئے بھی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انسان پر نازل ہوتے ہیں جو خوشخبریاں دینے والے نشانات ہیں ان کی وجہ سے پھر ایک انسان اللہ تعالیٰ کی محبت و عشق میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں تبشیر کے نشانوں کا بہت کچھ ذکر ہے یہاں تک کہ اس نے ان نشانوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک دائمی وعدہ دے دیا ہے کہ قرآن شریف کے بچے متبع ہمیشہ ان نشانوں کو پاتے رہیں گے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ۔لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللَّهِ۔ذلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (يونس: (65) یعنی ایماندار لوگ دنیوی زندگی اور آخرت میں بھی تبشیر کے نشان پاتے رہیں گے جن کے ذریعے سے وہ دنیا اور آخرت میں معرفت اور محبت کے میدانوں میں نا پیدا کنار ترقیاں