خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 525
525 خطبہ جمعہ 28 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارہ میں یہ نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ کیونکہ اللہ کی قدرتیں اور طاقتیں لامحدود ہیں اس لئے وہ اپنے نشانات ہر قوم کے لئے مختلف دکھاتا ہے۔اس لئے یہ نہیں ہوا کہ حضرت موسی چکے لئے بھی وہی نشانات دکھائے گئے جو حضرت نوع کے لئے یا قوم لوط اور عاد اور ثمود کے لئے بھی وہی ایک طرح کے نشانات ظاہر ہوئے۔کسی کو اللہ تعالیٰ نے کسی طرح پکڑا اور کسی کو کسی طرح۔پس اللہ تعالیٰ کی خشیت اور خوف ہر وقت دل میں رکھنا چاہئے تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے جذب کرنے والے بن سکیں۔اللہ تعالیٰ تو بہت رحم کرنے والا ہے۔صرف عذاب کے نشانات نہیں دکھاتا بلکہ بشارتیں بھی دیتا ہے۔سزائیں بھی دیتا ہے تو اس وقت دیتا ہے جب لوگ حد سے بڑھ جاتے ہیں۔بعض اسلام پر اعتراض کرنے والے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں جبر اور عذاب کی باتیں زیادہ ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: 157) یعنی میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ہی بہت سے عذاب ٹل جاتے ہیں یا لمبی مہلت مل جاتی ہے۔پس بندے کا کام ہے کہ استغفار کرے تو بہ کرے، اللہ تعالیٰ کی حدود سے بار بار باہر نکلنے کی کوشش نہ کرے۔پس مسلمان خوش قسمت ہیں کہ ہمیں یہ حدود بتا کر اور ان واقعات کی نشاندہی کر کے جو اُن قوموں کے لئے نشان بن گئیں، اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے صحیح رہنمائی کر دی۔پس ان حدود کی پابندی کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ان حدود کی پابندی کریں تا کہ مومن بن کر اور نیک اعمال کر کے ان بشارتوں کے حصہ دار بنیں ، ان بشارتوں سے حصہ لینے والے ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے مقدر کی ہیں اور جس کے بارے میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُونَ الصَّلِحَتِ اَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا (الكهف : 3) اور ایمان لانے والوں کو جو نیک اور ایمان کے مناسب حال کام کرتے ہیں ان کو بشارت دے کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے اچھا اجر مقدر ہے۔اور اچھا اجر حاصل کرنے والے جو صحیح مومن ہیں وہ پھر ایک مسلسل عمل کی حالت میں رہتے ہوئے جس میں نیک اعمال بجالانے کی کوشش ہو اس طرح مسلسل عمل کرتے رہتے ہیں اور پھر یہ ایسی حالت ہوتی ہے جس میں ایمان بگڑتا نہیں۔پس مومن کو چاہئے کہ قرآن کی تعلیم جو ایک کامل کتاب ہے ، آیات سے پُر ہے ، پہلوں کے نشانات کے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں، آئندہ کے لئے اس میں پیشگوئیاں ہیں ، ان سے سبق حاصل کرے اور آئندہ آنے والی باتوں پر غور کرے نیک اعمال کی طرف توجہ کرے تا کہ اجر حسنہ پائے۔نشانوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہ کس قسم کے دو مختلف نشانات ہوتے ہیں، بشارتیں بھی ہوتی ہیں، انذار بھی ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: واضح ہو کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔1۔نشان تخویف و تعذیب جن کو قہری نشان بھی کہہ سکتے ہیں“۔جس