خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 523 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 523

خطبات مسرور جلد پنجم 523 52) خطبہ جمعہ 28 دسمبر 2007ء فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2007ء بمطابق 28 فتح 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی فرمائی رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وَالْحِكْمَةَ۔وَيُزَكِّيْهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة: 130) گزشتہ خطبہ میں آنحضرت ﷺ کی ذات کے حوالے سے حضرت ابراہیم کی دعا کا ذکر ہوا تھا جس میں آنحضرت ﷺ کی ذات میں چار باتوں کے وہ معیار پورا ہونے کی حضرت ابراہیم نے دعا کی تھی جو عظیم رسول کے ذریعہ کامل اور مکمل ہونے والے تھے اور ان کا ذکر کر کے میں پہلی خصوصیت کے بارے میں بتا رہا تھا یعنی يَتْلُوا عَلَيْهِمُ اينك جو اُن پر تیری آیات پڑھ کر سنائے۔ہم آیات کے مختلف معانی دیکھ چکے ہیں یعنی آیات نشانات اور معجزات بھی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ دلانے والی باتیں بھی ہیں ، ایمان کی طرف راہنمائی کرنے والی باتیں بھی ہیں، عذاب سے بچنے والی باتوں کی طرف توجہ دلانا بھی ہے ، آئندہ ہونے والے واقعات کی پیشگوئیاں بھی ہیں۔زمین و آسمان میں مختلف موجودات، نباتات، جمادات وغیرہ کے بارے میں علم بھی ہے، تمدن کے صحیح راستے بتانے والی باتیں بھی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کے ذریعہ قرآن کریم میں اپنی ان آیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو بتایا اُسے آنحضرت ﷺ نے ہم تک پہنچایا۔جیسا کہ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَتْلُوا عَلَيْكُمُ اینا۔یہ نبی ، یہ عظیم رسول تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور یہ اتنے مختلف النوع اور تفصیلی مضامین ہیں اور مختلف حوالوں سے بیان ہوئے ہیں جن کی کوئی انتہاء نہیں۔ان میں سے چند ایک آیات میں نے لی ہیں جو پیش کرتا ہوں۔گزشتہ خطبہ کے آخر پر مفسرین کے حوالے سے آیت کا ایک مطلب عذاب بتاتے ہوئے سورۃ بنی اسرائیل کے اس حصہ کا بیان کیا تھا کہ وَمَا نُرْسِلُ بِالْأَيْتِ إِلَّا تَخْوِيْفَا (بنی اسرائیل : (60) یعنی اور ہم نشانات نہیں بھیجتے مگر تدریجا ڈرانے کی خاطر۔یہ پوری آیت یوں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُّرْسِلَ بِالْآيَتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الا وَّلُونَ۔وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا۔وَمَا نُرْسِلُ بِالْأَيْتِ إِلَّا تَخْوِيْفًا (بنی اسرائیل: (60)