خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 521

خطبات مسرور جلد پنجم 521 خطبہ جمعہ 21 دسمبر 2007ء پس نشان دکھانا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے سپرد فرمایا ہے۔آپ نے ہمیں ان آیات کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اتاریں یہ بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے لئے اس کی راہ میں کوشش اور جہاد ضروری ہے۔پس یہ نشانی بتادی۔اب کوشش کرنا تمہارا کام ہے۔علامات بتا دیں، دلائل دے دیئے کہ خدا ہے اور ہونا چاہئے۔دنیا کو پیدا کرنے والا ہے، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے لیکن اس تک پہنچنے کے لئے تمہاری کوشش ضروری ہے۔پس اللہ تعالیٰ پیروں فقیروں کے ذریعہ سے نہیں ملتا۔اللہ تعالیٰ تو آنحضرت ﷺ کے بتائے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے آپ کو بتائے ہوئے جو طریق ہیں ان پر عمل کرنے اور چلنے سے ملتا ہے۔اور پھر اگر خدا تعالیٰ کی علامتوں کا پتہ کرنا ہے تو پھر معجزات ہیں جو آنحضرت ﷺ نے دکھائے۔وہ معجزے بھی ، اعجازی نشان بھی سب سے زیادہ آنحضرت ﷺ نے ہی دکھائے ہیں۔پیروں فقیروں کے اعجازی نشان زیادہ نہیں ہو سکتے۔اُن اعجازی نشانوں کو چھوڑ کر جو آنحضرت ﷺ نے دکھائے یہ جو نام نہاد فقیروں کے معجزات ہیں، پیروں فقیروں کے معجزات کے نام پر جو دھو کے ہیں ان کو خدا سے ملنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ خود اپنے نفس پر بھی ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔آنحضرت ﷺ کے نشانات کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پس اللہ اس تک خود پہنچتا ہے جو ان علامات کے مطابق جو آنحضرت ﷺ نے بتائیں اسے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اُس طریق کے مطابق تلاش کرتا ہے جو آنحضرت ﷺ نے اپنی آیات میں بیان کئے ہیں۔پس اس کے مطابق ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو تلاش کریں۔پھر مفردات جولغت کی ایک کتاب ہے اس میں وَمَا نُرْسِلُ بِالآیتِ إِلَّا تَخُوِيْفًا (بنی اسرائیل: (60) یعنی ہم تو صرف خوف دلانے کے لئے آیات بھیجتے ہیں، سے مراد انہوں نے آیت کے ایک معنے عذاب بھی کئے ہیں جو مختلف شکلوں میں آتا ہے اور پہلے انبیاء کے وقت بھی آتا رہا ہے۔ان سب کا اللہ تعالیٰ نے آیات کے رنگ میں ذکر کیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس حوالے سے آیت کے یہ معنی لئے ہیں اور یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ اشک سے یہ استنباط بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے خلاف عذاب کی خبریں دے گا۔( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 191 زیر آیت ربنا وابعث مهم رسولا منهم ) اور آپ ﷺ کا زمانہ کیونکہ قیامت تک منتج ہے اس لئے قرآن کریم میں جو پرانے انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے ہیں یہ تنبیہ ہے تمام دنیا کو بھی اور آپ کے ماننے والوں کو بھی کہ ان واقعات سے عبرت حاصل کرو۔پس آج بھی ان آیات کی جو آپ نے بیان کیں، جو آپ پڑھا کرتے تھے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اتاریں اسی طرح یہ وضاحت پوری ہو رہی ہے کہ عذاب انہیں پر آتے ہیں یا آنے ہیں جو خدا کی خدائی پر ہاتھ ڈالنے والے ہیں، یا ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ظلم وستم میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔صرف نبی کو نہ مانا عذاب کا باعث نہیں بنتا۔گو کہ یہ بھی بڑی بد قسمتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس پر اتنا