خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 519
519 خطبہ جمعہ 21 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم لیکن بہر حال اس کی تکلیف آپ کو آخر تک رہی۔پھر جنگ اُحد میں آپ کو بڑے گہرے زخم آئے۔جنگوں میں آپ کو بڑی تکالیف پہنچیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جب تک قرآن کریم کو مکمل طور پر نازل نہیں کر دیا دین کامل ہونے اور نعمت تمام ہونے کا اعلان نہیں فرما دیا آپ کی ذات پر کوئی حملہ جان لیوا ثابت نہ ہوسکا۔آپ کی وفات طبعی طور پر ہوئی۔پس یہ آیات کا ٹکڑوں میں اترنا بھی جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عظیم رسول پر ایک عظیم تعلیم کے اترنے کا بھی نشان ہے اور یہی اس تعلیم کی خوبصورتی بھی ہے۔اس کے ٹکڑوں میں اترنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت کا انسان ابھی اس قابل نہیں تھا کہ ایک دم میں اس تعلیم کو سمجھ سکتا بلکہ بہت سی باتیں بعض صحابہ کو بھی سمجھ نہیں آتی تھیں۔لیکن دوسرے نشانات اور معجزات دیکھ چکے تھے اس لئے ایمان کامل تھا۔یا ان کی سمجھ اتنی تھی جتنا ان کا علم اس زمانے میں تھا۔بعض زیادہ پڑھے لکھے نہیں بھی تھے لیکن ان کا ایمان کامل تھا ان نشانات کو دیکھ چکے تھے۔یاد آیا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان کامل ہونے کے ضمن میں بیان کرتے ہیں کہ غالباً حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا واقعہ ہے۔اُن کو کسی نے مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے بارے میں کہا تھا یا ثناء اللہ صاحب کے بارہ میں۔بہر حال ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں کہ کبھی ان کی مجلسوں میں بیٹھ کر ان کے اعتراضات سنے ہیں جو مرزا صاحب پر کرتے ہیں اور جو تقریر کرتے ہیں اور جو وہ دلیلیں پیش کرتے ہیں۔تو انہوں نے کہا میں نے سنے تو نہیں لیکن وہ بھی میں سن لیتا ہوں۔اس کے بعد انہوں نے کہا میرا ایمان تو اور بھی مضبوط ہوگا ان اعتراضات نے مجھے کیا کرنا ہے۔میں نے تو وہ چہرہ دیکھا ہوا ہے جس نے میرے ایمان کو کامل کیا ہوا ہے۔تو ان لوگوں کا علم تھا یا نہیں چہرہ دیکھ کے بھی ایمان کامل تھا بہر حال بہت ساری باتیں سمجھ نہ آنے کے باوجود ان کا ایمان کامل تھا اور اس زمانے میں علم بھی نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے تو مستقبل کی پیشگوئیاں قرآن کریم میں بیان فرمائی ہوئی ہیں۔آج انسانی ذہن کی ترقی اور سائنسی ترقی نے انسان کو ان آیات کو سمجھنے کی نئی سوچیں بھی عطا فرمائی ہیں۔مثلاً ڈاکٹر عبدالسلام صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ اپنے ہر تجربہ کی بنا میں قرآن کریم کی آیات پر رکھتا ہوں۔تو بہر حال یہ نشانات تھے جو آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہم پر ظاہر ہوئے اور اس زمانے میں بھی جب آنحضرت ﷺ پر آیات نازل ہوئی تھیں تو آپ کے ماننے والوں کو ان ٹکڑوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں آسانی ہوتی تھی۔ایک یہ بھی مقصد ٹکڑوں میں نازل ہونے کا تھا۔آیت کے معانی مخفی چیزوں کی علامت بنا کر ظاہر کرنا بھی ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے اس تعلیم کی وجہ سے اللہ تعالی کوجو دنیا دار کونظر نہیں آتا، ایسے نشانات ہمنجزات اور علامات بتا کرجو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اتاری ، ان آیات کی