خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 518
518 خطبہ جمعہ 21 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا مانگی تھی کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايشك یعنی وہ تیری آیات انہیں پڑھ کر سنائے۔تو آیات کے مختلف معانی اہل لغت اور تفسیر نے کئے ہیں۔اس کے معنی نشان کے بھی ہیں۔اس کے معنی معجزات کے بھی ہیں۔آیت کے معنی ایسی عبرت کی بات کے بھی ہیں جو دوسروں کے لئے نصیحت کا باعث بنے۔پھر آیت کے معنی وہ بھی ہیں کہ ہر چیز جس سے دوسری چھپی ہوئی چیز کا پتہ لگے یہ بھی آیت کہلاتی ہے۔آیت کے معنی ٹکڑوں کے بھی ہیں۔جیسے قرآن کریم کی آیات ہیں۔غرض اس کے بہت سے معانی ہیں۔تو اس کا یہاں مطلب یہ ہوگا کہ وہ تعلیم جو اس پاک نبی پر اترے، اس کو لوگوں کو سنائے اور اس میں جن نشانات اور معجزات کا ذکر ہو وہ بتا کر لوگوں کے ایمانوں کو تازہ کرے اور ایسے دلائل لوگوں کے سامنے پیش کرے جن سے ان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا ہو۔اُن لوگوں کا ان دلائل کوسن کر اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق پیدا ہو جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیر بڑی تفصیل سے بیان فرمائی ہے، اس پر روشنی ڈالی ہے اور بڑے لطیف نکات پیش فرمائے ہیں جن سے میں استفادہ کر کے خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا ، ہم نے آیت کے معنی میں دیکھا ہے کہ اس کے معنی ٹکڑے کے بھی ہیں تو یتلوا عَلَيْهِمُ اينك میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو تعلیم آنحضرت ﷺ پر اترے گی وہ ایک وقت میں نہیں اترے گی بلکہ ٹکڑوں میں اترے گی۔تو اس بارے میں جو دعا کی گئی تھی کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ابنك اور پھر اس کی قبولیت کے تعلق میں خدا تعالیٰ نے بتادیا کہ اس تعلیم کا اتر نا پہلے دن سے ہی ٹکڑوں کی صورت میں تھا۔یہی اللہ تعالی کی اس میں حکمت تھی اور یہ فیصلہ تھا۔اس لئے یہی دعا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے کروائی اور اس کو قبول فرمایا تا کہ اس کو بھی ایک نشان بنا دے۔قرآن کریم کے اس طرح ٹکڑوں میں اترنے کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نشان کے طور پر پیش فرمایا ہے جبکہ دشمن اس پر اعتراض کرتا ہے کہ ٹکڑوں میں کیوں اتری ہے۔قرآن کریم دشمن کے اس اعتراض کو یوں پیش فرماتا ہے کہ لَوْلَا نُزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةَ واحِدَةً (الفرقان : 33 ) یعنی اس پر سارے کا سارا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اترا۔دشمن کو تو یہ اعتراض نظر آ رہا ہے۔لیکن مومن کو دعا کی قبولیت کا نشان نظر آ رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ 23 سال کے عرصہ پر پھیل کر قرآن کریم کا اترنا قرآن کریم کی سچائی کی بھی دلیل ہے اور آنحضرت ﷺ کی سچائی کی بھی دلیل ہے کہ ایسے ایسے سخت حالات آئے ، سخت جنگیں ہوئیں یہاں تک کہ خود آنحضرت ﷺ کی ذات مبارکہ کو بھی نقصان پہنچایا پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ایک یہودیہ نے زہر دینے کی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو فور بتا دیا اور آپ نے منہ سے لقمہ نکال دیا اور زہر کا اثر نہیں ہوا