خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 42
خطبات مسرور جلد پنجم 42 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء دیکھیں وہ ذات جس کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کا پیار حاصل کرنا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں خود آپ سے قرآن کریم میں یہ اعلان کروایا کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العَلَمِينَ (الانعام (163 کہ تُو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔اس کے باوجود آپ فرما رہے ہیں کہ اللہ کی رحمت ہی مجھے ڈھانپے گی۔آپ کی زندگی ، موت ، نمازیں تمام نیکیاں ہر چیز اس اعلیٰ مقام کی تھیں جن تک کوئی نہیں پہنچ سکتا اور جیسا کہ ہم نے دیکھا اللہ تعالیٰ خود گواہی دے رہا ہے۔یہ وہ اعلیٰ مقام تھا جو آپ نے حاصل کیا۔پھر بھی آپ یہی فرماتے ہیں کہ اگر مجھے نجات ہوگی تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوگی۔پس رحمن خدا کے رحم کو جذب کرنے کے لئے اس کا فضل مانگنا انتہائی ضروری ہے جیسا کہ آنحضرت علیم اللہ نے ہمیں دعا سکھائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں دعائیں سکھائی ہیں جن کا ذکر آچکا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ایک مومن کو اس کے حضور جھکانے والی اور اس کا رحم طلب کرنے والی ہونی چاہیئے اور یہی ایک مومن کی نشانی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 16 تا 22 فروری 2007 ص 5 تا 9 )