خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 517
خطبات مسرور جلد پنجم 517 خطبہ جمعہ 21 دسمبر 2007ء رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ الله وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ۔وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مبِينِ (الجمعة: 3) پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم نے تمہارے اندر تمہی میں سے رسول بھیجا ہے جو تم پر ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور اس کی حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن کا تمہیں پہلے علم نہ تھا۔اور پھر دوسری آیت میں فرمایا ( وہی چیز دوبارہ ) کہ وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہیں میں سے ایک عظ رسول مبعوث کیا وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔لیکن ان دونوں آیات میں اور پہلی آیت میں جو حضرت ابراہیم کی دعا تھی ایک بظاہر معمولی ترتیب کا فرق ہے جو نظر آتا ہے۔لیکن یہ فرق کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات حکیم ہے اس نے خاص حکمت سے رکھا ہے گویا قرآن کریم کا ہر ہر لفظ اور نہ صرف لفظ بلکہ اس کی ترتیب بھی اپنے اندر حکمت لئے ہوئے ہے۔قرآن کریم پر اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں کہ اس کی ترتیب نہیں ہے جبکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو قرآن کریم کی آیات پر غور کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے اور جب تک دل پاک نہ ہوں یہ صلاحیت پیدا بھی نہیں ہو سکتی۔یہ فرق جو حضرت ابرا ہیم کی دعا میں ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے پہلی چیز جو مانگی تھی وہ یہ تھی کہ جو تیری آیات تلاوت کرے دوسری بات انہیں تعلیم دے۔تیسری بات اپنی حکمت دے۔اور چوتھی بات یہ کہ ان کا تزکیہ کرے۔تو یہ دعا کی ترتیب ہے جو حضرت ابراہیم نے مانگی۔اور جب اللہ تعالیٰ اگلی آیتوں میں قبولیت دعا کی بات کرتا ہے تو فرماتا ہے کہ میں نے یہ رسول مبعوث کر دیا جو تمہیں یہ باتیں سکھاتا ہے اس ترتیب میں انگلی باتوں میں ایک فرق ہے۔پہلی بات یہ کہ آیات پڑھ کر سناتا ہے۔یہ الفاظ ترتیب کے لحاظ سے جو دعا کے الفاظ تھے ان کے مطابق ہیں۔دوسری بات یہاں دیکھی کہ تمہیں پاک کرتا ہے ، تمہارا تزکیہ کرتا ہے۔دعا میں یہ تزکیہ کے الفاظ سب سے آخر میں تھے۔کتاب سکھانے اور حکمت سکھانے کی ترتیب آگے دونوں وہی ہیں جو پہلی دعا میں تھیں۔تو بہر حال یہ جوتر تیب میں فرق ہے اس میں بھی ایک حکمت ہے جو بعد میں انشاء اللہ بیان کروں گا۔اس وقت پہلے میں اس بات کو لیتا ہوں جو حضرت ابراہیم نے دعا کی تھی اور خاص طور چارا مور کی جو استدعا اللہ تعالیٰ کے حضور اس عظیم رسول کے لئے کی تھی۔ان چار باتوں کا مطلب کیا ہے۔آیات کیا چیز ہیں؟ کتاب کیا ہے؟ حکمت کیا ہے؟ اور تزکیہ کیا ہے؟