خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 512
512 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں تبھی تمہاری جان بچے گی اور تم آزادی سے زندگی گزارسکو گے۔اُن کے لئے آنحضرت ﷺ نے اعلان فرمایا کہ اس بلال کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ جس پر تم ظلم کیا کرتے تھے اور آج اس بلال کے جھنڈے تلے جمع ہو کر ہی تمہاری جان بھی بچے گی اور تمہارے بیوی بچوں کی جان بھی بچے گی۔تو حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے، جب سے انسان کو طاقت حاصل ہوئی ہے اور جب سے کوئی انسان دوسرے انسان سے اپنے خون کا بدلہ لینے کے لئے تیار ہوا ہے ، اس کو طاقت ملی ہے اس قسم کا عظیم الشان بدلہ کسی انسان نے نہیں لیا۔بلال کا جھنڈا خانہ کعبہ کے سامنے میدان میں گاڑا گیا اور عرب کے وہ رؤسا جو اُنہیں پیروں کے نیچے مسلا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ بولتا ہے کہ نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں اور جھوٹے ہیں ، وہی لوگ اب دوڑ دوڑ کر اپنے بیوی بچوں کے ہاتھ پکڑ کر اور لا لا کر بلال کے جھنڈے تلے جمع کر رہے تھے تا کہ ان کی جان بچ جائے تو یہ بدلہ لیا جارہا تھا۔اُس وقت بلال کا دل اور ان کی جان کس طرح محمد رسول ﷺ پر نچھاور ہو رہی ہوگی۔وہ کہتے ہوں گے کہ خبر نہیں کہ میں نے ان کفار سے بدلہ لینا تھا کہ نہیں ، یالے بھی سکتا تھایا نہیں لیکن اب وہ بدلہ لیا گیا ہے کہ ہر شخص جس کی جوتیاں میرے سینے پر پڑتی تھیں اس کے سر کو آنحضرت ﷺ نے میری جوتی پر جھکا دیا ہے۔(ماخوذ از سیر روحانی صفحه (561 تا 563 پھر اس پر حکمت فیصلے نے بلال کے جھنڈے تلے آنے والوں کو یہ بھی بتا دیا کہ وہ جسے تم غلام سمجھتے تھے وہ جس کا کوئی قبیلہ، کوئی رشتہ دار ملکہ میں نہیں تھا۔وہ جسے ایک حقیر اور پاؤں کی ٹھوکر سے اڑانے والا شخص سمجھ کر تم نے اس پر ظلم کی انتہا کر دی تھی۔آج سن لو اور دیکھ لو کہ طاقت والے تم نہیں ، غالب تم نہیں، عزیز تم نہیں، عزیز تو بلال کا خدا ہے۔عزیز تو محمد رسول ﷺ کا خدا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ تو اس عزیز حکیم خدا کی صفات اپنائے ہوئے ہیں اور یہ صفات اپنائے ہوئے ہیں۔اس طرح غلبہ کے بعد بدلہ لیتے ہیں جس میں تکبر اور نخوت نہیں۔ہوش وحواس سے عاری ہوکر دشمن کو تہس نہیں نہیں کرتے بلکہ حکمت سے ایسے فیصلے کرتے ہیں جس میں بدلہ بھی ہے اور تمہیں اپنی غلطیوں کا احساس دلانے کی طرف توجہ بھی ہے۔آج حکمت کا تقاضا ہے کہ اس عزیز خدا کی پہچان کروانے کے لئے تمہاری نظروں میں جو کمترین انسان تھا بلکہ تم اسے جانوروں سے بھی بدتر سمجھتے تھے اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کے لئے تمہیں کہا جائے تا کہ تمہیں یہ بھی احساس ہو کہ جب تم بلال کے لئے ظلم کی بھٹیاں جلاتے تھے اور اپنے زعم میں اپنے آپ کو عزیز سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اس ذلیل اور حکمت سے عاری شخص پر ظلم کرو تو یا اپنے دین سے پھر جائے گا۔اُس دین سے پھر جائے گا۔جو تمہارے خیال میں حکمت سے عاری دین ہے۔ان ظالموں کا سرغنہ ابوالحکم کہلاتا