خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 510
خطبات مسرور جلد پنجم 510 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء گیا ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا جاؤ مکہ میں اعلان کر دو کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں گھسے گا اسے پناہ دی جائے گی۔کہنے لگا یا رسول اللہ میرے گھر میں کتنے لوگ آجائیں گے۔اتنا بڑا شہر، میرے گھر میں کتنے لوگ امن پائیں گے۔آپ نے فرمایا کہ اچھا جاؤ۔جو شخص خانہ کعبہ میں چلا جائے گا اسے امان دی جائے گی۔ابوسفیان نے کہایا رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ بھی چھوٹی سی جگہ ہے کتنے لوگ اس میں چلے جائیں گے پھر بھی لوگ رہ جائیں گے۔آپ نے فرمایا اچھا جو اپنے گھر کے دروازے بند کر لیں گے انہیں بھی پناہ دی جائے گی۔اس نے کہا یا رسول اللہ گلیوں والے جو ہیں وہ بیچارے کیا کریں گے؟ تو آپ نے فرمایا اچھا؟ آپ نے ایک جھنڈا بنایا اور فرمایا کہ یہ بلال کا جھنڈا ہے۔ابی رویحہ ایک صحابی تھے۔آپ نے مدینہ میں جب مہاجرین اور انصار کی آپس میں مواخات شروع کی تھی اور ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا تھا، توابی رویہ کو بلال کا بھائی بنایا تھا۔مصلح موعود لکھتے ہیں یہ ان کی اپنی رائے ہے کہ شاید اس وقت بلال وہاں نہیں تھے یا کوئی اور مصلحت تھی تو بہر حال آپ نے بلال کا جھنڈا بنایا اورابی رویحہ کے سپر د کر دیا جو انصاری تھے اور فرمایا کہ یہ بلال کا جھنڈا ہے۔یہ اسے لے کر چوک میں کھڑا ہو جائے اور اعلان کر دے کہ جو اس جھنڈے تلے کھڑا ہو جائے گا، جھنڈے تلے آ جائے گا اس کی بھی جان بخشی کر دی جائے گی۔ابوسفیان نے کہا ٹھیک ہے۔اب کافی ہے۔مجھے اجازت دیں۔میں جا کر اعلان کرتا ہوں۔تو کیونکہ قریش مکہ کا جو سر دار تھا وہ خود ہی ہتھیار پھینک چکا تھا۔اس لئے گھبراہٹ کی کوئی ایسی بات تو تھی نہیں۔وہ مکہ میں داخل ہوا اور اس نے اعلان کر دیا کہ اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کرلو اور کوئی باہر نہ نکلے۔خانہ کعبہ میں چلے جاؤ اور یہ بلال کا جھنڈا ہے جو اس کے نیچے آجائے ان سب کو پناہ دی جائے گی۔ان سب کی جان بخشی جائے گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔لیکن اپنے ہتھیار باہر لا کر پھینک دو۔تو لوگوں نے اپنے ہتھیار باہر لاکر پھینکنا شروع کر دیئے اور حضرت بلال کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہو گئے۔اس واقعہ کا حضرت مصلح موعودؓ نے یہ تجزیہ کیا ہے کہ اس میں جو سب سے عظیم الشان بات ہے وہ بلال کا جھنڈا ہے کہ رسول کریم ﷺ بلال کا جھنڈا بناتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جو شخص بلال کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو جائے گا اسے پناہ دی جائے گی حالانکہ سردار تو محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔مگر آنحضرت ﷺ نے اپنا کوئی جھنڈا کھڑا نہیں کیا۔آپ کے بعد قربانی کرنے والے حضرت ابو بکر تھے، حضرت عمرؓ تھے، حضرت عثمان تھے، حضرت علی تھے لیکن کسی کا بھی جھنڈا کھڑا نہیں کیا گیا۔اس کے بعد خالد بن ولید تھے اور لیڈر تھے سردار تھے وہاں کسی کا جھنڈا نہیں بنایا۔آنحضرت نے اگر جھنڈا بنایا تو حضرت بلال کا بنایا۔آپ فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ کیا تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ خانہ کعبہ پر جو حملہ ہونے لگا تھا، ابوبکر دیکھ رہے تھے کہ جن کو مارا جانے والا ہے وہ اس کے بھائی بند ہیں۔انہوں نے خود بھی کہ دیا