خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 509

509 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم قریش کے ایک سردار پر اثر ہوا۔جب صلح حدیبیہ کے دوران عروہ بن مسعود نے واپس جا کر قریش کو بتایا (اس کو حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے سیرۃ خاتم الانبیاء میں اپنے انداز سے بیان فرمایا ہے ) کہ لوگو! میں نے دنیا میں بہت سفر کیا ہے۔بادشاہوں کے دربار میں بھی شامل ہوا ہوں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے سامنے بطور وفد کے بھی پیش ہوا ہوں مگر خدا کی قسم جس طرح میں نے محمد ﷺ کے صحابیوں کو محمد ﷺ کی عزت کرتے دیکھا ہے ایسا میں نے کسی اور جگہ نہیں دیکھا۔عروہ کی یہ گفتگوسن کر قبیلہ بنو کنانہ کے ایک رئیس نے جس کا نام حلیس بن علقمہ تھا قریش سے کہا کہ اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں محمد ﷺ کے پاس جاتا ہوں۔انہوں نے کہا ہاں بے شک جاؤ۔( کوئی فیصلہ کر کے آؤ۔) چنانچہ یہ ی شخص حدیبیہ میں آیا اور جب آنحضور ﷺ نے اُسے دُور سے آتے دیکھا تو صحابہ سے فرمایا کہ یہ شخص جو ہماری طرف آ رہا ہے ایسے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے منظر کو پسند کرتا ہے۔پس فورا آپ نے یہ پر حکمت فیصلہ فرمایا۔اور حکم دیا۔( کیونکہ آپ جنگ و جدل کو نہیں چاہتے تھے اور نہ وہاں جنگ و جدل کے لئے گئے تھے بلکہ امن سے حج کرنا چاہتے تھے )۔آپ نے فرمایا کہ فوراً اپنی قربانی کے جانوروں کو اکٹھا کرو اور سامنے لاؤ تا کہ اسے پتہ لگے اور احساس ہو کہ ہم کس غرض سے آئے ہیں۔چنانچہ صحابہ اپنے قربانی کے جانوروں کو ہنکاتے ہوئے اور تکبیر کی آواز بلند کرتے ہوئے سامنے جمع ہو گئے کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ یہ جس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے یہ لوگ قربانی کے مناظر کو بہت پسند کرتے ہیں۔اس لئے آپ نے فورا یہ فیصلہ فرمایا کہ ان کی طبیعت کے مطابق فورا عمل کیا جائے اور صحابہ اپنی قربانی کی بھیڑوں کو ہانکتے ہوئے اور تکبیر کی آواز بلند کرتے ہوئے جمع کر کے اس کے سامنے لے آئے۔جب اس نے یہ نظارہ دیکھا تو کہنے لگا سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! یہ تو حاجی لوگ ہیں۔انہیں بیت اللہ کے طواف سے کس طرح روکا جاسکتا ہے۔چنانچہ وہ جلد ہی قریش کی طرف واپس لوٹ گیا اور قریش کو کہنے لگا کہ میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے جانوروں کے گلوں میں قربانی کے ہار باندھ رکھے ہیں اور ان پر قربانی کے نشان لگائے ہوئے ہیں۔پس یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ انہیں طواف کعبہ سے روکا جائے۔لیکن بہر حال کیونکہ اس وقت کفار کی، قریش کی دو مختلف را ئیں تھیں۔ایک اجازت دینا چاہتا تھا۔دوسرانہیں چاہتا تھا۔اس لئے بہر حال اس سال فیصلہ یہی ہوا کہ حج نہیں ہو گا اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس کے بہتر نتائج پیدا فرمائے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین حصه سوم۔صفحه 758) پھر فتح مکہ کے موقع پر بھی تاریخ میں ابو سفیان کا ایک واقعہ درج ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اسے اپنے انداز میں بیان فرمایا ہے۔جب ابوسفیان گرفتار ہو کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔تو محمد رسول ﷺ نے اسے فرمایا: مانگو کیا مانگتے ہو۔کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ اپنی قوم پر رحم نہیں کریں گے۔آپ تو بڑے رحیم و کریم ہیں اور پھر میں آپ کا رشتہ دار بھی ہوں ، بھائی ہوں اور میرا کوئی اعزاز بھی ہونا چاہئے کیونکہ اب میں مسلمان بھی ہو