خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 508

508 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم سعید بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول کریم ﷺ نے نجد کی طرف مہم بھیجی جو بنو حنیفہ کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لائے۔جس کا نام شمامہ بن اثال تھا۔صحابہ نے اسے مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا۔رسول کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے تمامہ! تیرے پاس کیا عذر ہے یا تیرا کیا خیال ہے کہ تجھ سے کیا معاملہ ہوگا۔اس نے کہا میر اظن اچھا ہے۔اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک خون بہانے والے شخص کو قتل کریں گے۔اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدر دانی کرنے والا ہے۔اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جنتا چاہے لے لیں۔یہاں تک اگلا دن چڑھ آیا۔آپ پھر تشریف لائے اور ثمامہ سے پوچھا کیا ارادہ ہے؟ چنانچہ ثمامہ نے عرض کیا میں تو کل ہی آپ سے عرض کر چکا تھا کہ اگر آپ انعام کریں تو آپ ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔آپ نے اس کو وہیں چھوڑا یہاں تک کہ تیسرا دن چڑھ آیا۔آپ نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کی جو کچھ میں نے کہنا تھا کہہ چکا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔تمامہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا غسل کیا اور مسجد میں داخل ہو کر کلمہ شہادت پڑھا اور کہا اے محمد ﷺ بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کا چہرہ ہوا کرتا تھا اور اب یہ حالت ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب آپ کا چہرہ ہے۔بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کا دین ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ حالت ہے کہ میرا محبوب ترین دین آپ کا لایا ہوا دین ہے۔بخدا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کے شہر کو کرتا تھا۔اب یہی شہر میرا محبوب ترین شہر ہے۔آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا جب کہ میں عمرہ کرنا چاہتا تھا۔آپ اس کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے اسے خوشخبری دی اور اسے عمرہ کرنے کا حکم فرمایا۔جب وہ مکہ پہنچا تو کسی نے کہا کیا تو صابی ہو گیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں میں محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آیا ہوں۔(بخاری کتاب المغازى باب وفد بنى حنيفه وحديث ثمامة بن اثال حديث : 4372) تو آپ نے تین دن تک اسے اسلام کی تعلیم سے آگاہ کرنے کا بڑا پر حکمت طریقہ اختیار فرمایا تا کہ یہ دیکھ لے کہ مسلمان کس طرح عبادت کرتے ہیں۔کتنا ان میں خلوص ہے۔اپنے رب کے آگے کس طرح گڑ گڑاتے ہیں۔کس طرح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشق و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔اور کیا تعلیم آپ ﷺ اپنے ماننے والوں کو دیتے ہیں۔کوئی براہ راست تبلیغ نہیں تھی۔صرف روزانہ یہ پوچھتے تھے کہ کیا ارادہ ہے تا کہ دیکھیں کہ اس کو اثر ہوا ہے کہ نہیں اور تیسرے دن آپ کے نور فراست نے یہ پہچان لیا کہ اب اس میں نرمی آ گئی ہے۔اس لئے بغیر کسی اقرار کے اس کو چھوڑ دیا اور پھر جو نتیجہ نکلا اس سے ثابت ہوا کہ آپ کا خیال صحیح تھا۔اس نے اسلام قبول کر لیا۔پھر صلح حدیبیہ کا ایک واقعہ ہے کس طرح آپ کی قیافہ شناسی تھی اور حکمت سے آپ نے ایک کام کروا دیا جس کا