خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 507

507 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم تنصیب کے لئے قبائل کا باہم اختلاف ہو گیا اور نوبت آپس میں جنگ تک پہنچ گئی۔چار پانچ دن تک اس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔ایک دن قریش جمع ہوئے اور آپس میں مشورہ کیا تو ابو امیہ بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مكتوم، جو قریش کے سب سے بوڑھے شخص تھے اس نے کہا کہ اے قریش آپس میں یہ طے کر لو کہ تمہارے اس اختلاف کا وہ شخص فیصلہ کرے گا جو کل سب سے پہلے بیت اللہ میں آئے گا۔چنانچہ انہوں نے یہ تجویز مان لی اور اگلے روز انہوں نے دیکھا کہ سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہونے والے رسول اللہ ﷺ تھے۔چنانچہ انہوں نے آپ کو دیکھا اور کہا یہ امین آ گیا۔ہم خوش ہو گئے۔یہ حمد ﷺ ہیں۔چنانچہ وہ ان کے پاس پہنچے اور قریش نے اپنا سارا جھگڑا آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا کہ ایک کپڑا لاؤ۔چنانچہ آپ کو کپڑا پیش کیا گیا۔آنحضور ﷺ نے کپڑا بچھایا اور حجر اسود کو اٹھا کر اس چادر پر رکھ دیا۔پھر آپ نے ہر قبیلہ کے سردار کو کہا کہ اس چادر کا کونہ پکڑ لو اور پھر سب مل کر حجر اسود کو اٹھاؤ اور اس کی جگہ کے قریب لے کر آؤ۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ نے پھر وہاں سے اٹھا کر حجر اسود کو اس کی اصل جگہ پر رکھ دیا۔آپ نے یہ ایسا پر حکمت فیصلہ کیا تھا جس نے وہاں ان قبائل کو قتل و غارت سے بچالیا۔ان کی جنگیں تو پھر سالہا سال تک چلتی تھیں۔پتہ نہیں کتنے قتل ہو جاتے اور کب تک ہوتے چلے جاتے۔آپ کو حکمت سے خدا تعالیٰ نے کس طرح بھرا۔اس کے بارہ میں ایک روایت آتی ہے۔حضرت انس بن ما لک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ذر نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں مکہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی اور جبرائیل نازل ہوئے۔انہوں نے میرا سینہ کھولا۔پھر اسے آب زمزم سے دھویا۔پھر ایک سونے کا طشت لائے جو کہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔پھر اسے میرے سینے میں انڈیل دیا۔پھر اسے بند کر دیا۔پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ورلے آسمان کی طرف لے گئے۔(صحيح بخارى كتاب الصلاة باب كيف فرضت الصلاة في الاسراء حديث : 349) | ہشام بن زید بن انس روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ ایک یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور اس نے اَلسَّلامُ عَلَيْكَ کہا یعنی تجھ پر ہلاکت ہو۔آپ نے اس کے جواب میں فرمایا عَليكَ تم پر۔پھر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں پتہ چلا ہے کہ اس نے کیا کہا تھا۔پھر آپ نے بتایا کہ اس نے اَلسَّامُ عَلَيْكَ کہا تھا۔صحابہ نے یہودیوں کی یہ حرکت دیکھی تو آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں۔آنحضور ﷺ نے فرمایا نہیں، اسے قتل نہ کرو اہل کتاب میں سے کوئی شخص جو تمہیں سلام کہے تو تم اس کو وَعَلَيْكُمْ“ کہہ کر جواب دے دیا کرو۔(صحیح بخاری۔كتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم۔باب اذاعرض الذمى۔۔۔۔۔۔حديث : 6926) بجائے اس کے کہ جھگڑ افسادلڑائیاں پیدا ہوں مختصر جواب دو اور جھگڑوں سے بچو۔