خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 502 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 502

502 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم بے مقصد اور حکمت سے خالی ہے۔اور پھر یہ نبی صرف تمہیں حکم نہیں دیتا کہ ایسا کرو۔ایسا نہ کرو۔نصیحت نہیں کرتا بلکہ عملی نمونے بھی دکھاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس اسوہ حسنہ پر عمل کرو جو اللہ تعالیٰ کے اس پیارے نبی ﷺ نے قائم فرمایا۔پس ہر مومن کو آنحضرت ﷺ کی ہر بات کو سمجھنا چاہئے اور اس پر غور کرنا چاہئے۔اگر واضح طور پر سمجھ نہ بھی آئے تو یہ ایمان ہو کہ یقیناً اس میں کوئی حکمت ہے اور ہمارے فائدے کے لئے ہے۔یہی سوچ ہے جو ایک مومن کی شان ہونی چاہئے ، مومن کے اندر ہونی چاہئے۔اب میں آنحضرت ﷺ کی چند احادیث پیش کرتا ہوں جس میں مختلف امور بیان فرماتے ہوئے آپ نے ہماری عملی تربیت بھی فرمائی ہے۔سب سے پہلے تو یہ حدیث پیش کرتا ہوں۔ایک حدیث میں آپ فرماتے ہیں کہ اَالْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّة الْمُؤْمِنِ حَيْثُ مَا وَجَدَهَا فَهُوَ اَحَقُّ بِهَا۔(سنن ابن ماجه۔كتاب الزهد باب الحكمة حديث : 4169) حضرت ابو ہریرہ سے یہ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حکمت اور دانائی کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے۔جہاں کہیں وہ اسے پاتا ہے وہ اس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔اس میں جہاں یہ واضح فرمایا کہ حکمت کی بات کہیں سے بھی ملے خواہ وہ غیر مذہب والے سے ملے، غریب سے ملے، بچے سے ملے تمہارے خیال میں کوئی جاہل ہے، کم پڑھا لکھا ہے اس سے ملے لیکن یہ دیکھو کہ بات کیا ہے۔اگر حکمت ہے تو اس کو اپنالو کیونکہ تم اس کے حقدار ہو۔اسے تکبر سے رد نہ کر دیا یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ مجھے پتہ ہے وہی سب کچھ ہے۔بلکہ غور کرتے ہوئے اسے اختیار کرو۔اب دیکھیں وہ ایک بچے کی حکمت کی بات ہی تھی جو اس نے بزرگ کو کہی تھی۔واقعہ آتا ہے بارش میں ایک بچہ چلا جار ہا تھا تو بزرگ نے کہا کہ دیکھو بچے آرام سے چلو کہیں پھسل نہ جانا۔بچے نے کہا کہ اگر میں پھسلوں گا تو صرف مجھے چوٹ لگے گی لیکن آپ تو قوم کے راہنما ہیں ، روحانی راہنما ہیں۔آپ اگر پھلے تو پوری قوم کے پھسلنے کا خطرہ ہے، متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔تو بڑی حکمت کی بات ہے جو ایک بچے کے منہ سے نکلی۔دوسرے اس طرف توجہ دلائی کہ ایک مومن کو فضولیات سے بچتے ہوئے حکمت کی باتوں کی تلاش رہنی چاہئے۔اگر اس سوچ کے ساتھ ہم اپنی زندگی گزاریں گے تو بہت سی لغویات اور فضول باتوں سے بچ جائیں گے۔پھر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رشک دو آدمیوں کے متعلق جائز ہے۔ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا رہے۔اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلے کرتا ہے اور اسے