خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 494
خطبات مسرور جلد پنجم 494 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء طرف منسوب کیا اور پھر اس کے بعد اس کی صفت حکیم کا اقرار کیا کیونکہ ان پر حقیقت کھل گئی تھی۔یہ آگے پھر تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں، الحِكْمَة کے معانی ہیں : روکنا۔اسی سے سواری کے منہ میں ڈالی جانے والی لگام کو الحكمة کہتے ہیں، کیونکہ وہ اسے کبھی سے روکتی ہے۔نیز علم کوبھی حکمت کہتے ہیں کیونکہ یہ طریق اس کام میں بگاڑ پیدا ہونے میں روک بنتا ہے اور حکیم کے معانی ہیں ذُو الحِكْمَة: یعنی حکمت والا اور بعض نے حکیم کے معانی یہ کئے ہیں کہ وہ جو اپنی تمام مخلوقات کو محکم طور پر بنانے والا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی تفسیر کی ہے جس کو میں اختصار سے یہاں بیان کرتا ہوں۔اس آیت کو سمجھنے کے لئے گزشتہ آیات کو بھی دیکھنا ہو گا۔یہ جو آیت تھی لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا (البقرة: 33) اس سے پہلی آیات ہیں۔و إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الارْضِ خَلِيفَةً۔قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ۔قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُونَ (البقرة: 31 یعنی اور یا درکھ جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ یقیناً میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔انہوں نے کہا کیا تو اس میں وہ بنائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے۔جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔اس نے کہا یقینا میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔پھر اگلی آیت میں آتا ہے کہ وَعَلَّمَ آدَمَ الْاسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَآئِكَةِ فَقَالَ اَنْبِتُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنتُمْ صدِقِينَ (البقرة : 32) اور اس نے آدم کو تمام نام سکھائے۔پھر ان مخلوقات کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ مجھے ان کے نام بتلا ؤ اگر تم سچے ہو۔اس پر فرشتوں نے کہا کہ قَالُوا سُبحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ انْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (البقرة: 33) انہوں نے کہا کہ پاک ہے تو ہمیں کسی بات کا کچھ علم نہیں سوائے اس کے جس کا تو ہمیں علم دے۔یقینا تو ہی ہے جو دائمی علم رکھنے والا اور بہت حکمت والا ہے۔جیسا کہ ہم الْحَکیم کے لغوی معنی میں دیکھ آئے ہیں کہ اس کے معنی حکمت والا اور تمام کاموں کو اچھی طرح کرنے والا ہیں یعنی جسے کوئی بگاڑ نہ سکے۔پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ بات کی حقیقت اور اس کے مغز تک پہنچنا۔یہ تمام معنی اقرب نے کئے ہیں۔بہر حال یہ آیت اور اس سے پہلے کی جو آیات ہیں ، جو میں نے ابھی پڑھ کر سنا ئیں، ترجمہ ہم نے سن لیا ان سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کیا معاملہ در پیش تھا۔اس پر فرشتوں نے کہا کہ ہمیں جتنا تو نے سکھایا ہے اتنا ہی ہمیں علم ہے۔پہلے انہوں نے کہا آدم کو کیوں پیدا کرنے لگا ہے؟ فساد پیدا کرنے کے لئے ؟ جب اللہ تعالیٰ نے سب کچھ معاملہ سامنے رکھا تو اس پر ان کا جواب تھا، ہمیں تو وہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔ہم اس بات کا بہر حال احاطہ نہیں کر سکتے جو تیرے علم میں ہے کیونکہ تو توالعلیم بھی ہے اور ا الْحَکیم بھی۔یعنی تو بہت جاننے والا اور بہت زیادہ حکمت والا ہے۔ہم نے تو ظاہری امور کو مد نظر رکھ کر یہ کہ دیا تھا کہ آدم کی وجہ سے خونریزی اور فساد پیدا