خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 492
خطبات مسرور جلد پنجم 492 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے ایک جگہ فرمایا ہے کہ: علوم ظاہری اور علوم قرآنی کے حصول کے درمیان ایک عظیم الشان فرق ہے۔دنیوی اور رسمی علوم کے حاصل کرنے کے واسطے تقویٰ شرط نہیں ہے۔صرف ونحو طبعی، فلسفہ، ہیئت و طبابت پڑھنے کے واسطے یہ ضروری امر نہیں ہے کہ وہ صوم وصلوٰۃ کا پابند ہو اور امر الہی اور نواہی کو ہر وقت مد نظر رکھتا ہو، اپنے ہر قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکومت کے نیچے رکھے۔بلکہ بسا اوقات عموماًدیکھا گیا ہے کہ دنیوی علوم کے ماہر اور طلبگار دہر یہ منش ہو کر ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔آج دنیا کے سامنے ایک زبر دست تجر بہ موجود ہے۔فرماتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ باوجود یکہ وہ لوگ ارضی علوم میں بڑی بڑی ترقیاں کر رہے ہیں۔دنیاوی علوم میں بڑی بڑی ترقیاں کر رہے ہیں۔اور آئے دن نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی روحانی اور اخلاقی حالت بہت ہی قابل شرم ہے۔لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے حالات جو کچھ شائع ہوئے ہیں ہم تو اُن کا ذکر بھی نہیں کر سکتے۔مگر علوم آسمانی اور اسرار قرآنی کی واقفیت کے لئے تقویٰ پہلی شرط ہے۔اس میں توبتہ النصوح کی ضرورت ہے۔جب تک انسان پوری فروتنی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ اٹھالے اور اس کے جلال اور جبروت سے لرزاں ہو کر نیازمندی کے ساتھ رجوع نہ کرے قرآنی علوم کا دروازہ نہیں کھل سکتا اور روح کے ان خواص اور قوی کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے علوم خدا کے ہاتھ میں ہیں۔پس اس کے لئے تقوی بطور کر دبان کے ہے یعنی ایک سیڑھی کے طور پر ہے۔ایک اوپر لے جانے والا جو کوئی ذریعہ ہے، اس طور پر تقویٰ ہے۔اس کو سمجھنے کے لئے تقویٰ ایک انتہائی ضروری چیز ہے۔فرماتے ہیں کہ پھر کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ بے ایمان ، شریر، خبیث النفس، ارضی خواہشوں کے اسیر، ان سے بہرہ ور ہوں۔اس واسطے اگر ایک مسلمان ، مسلمان کہلا کر خواہ وہ صرف ونحو، معانی و بدیع وغیرہ علوم کا کتنا ہی بڑا فاضل کیوں نہ ہو، دنیا کی نظر میں شیخ الکل فی الکل بنا بیٹھا ہو لیکن اگر تز کیہ نفس نہیں کرتا تو قرآن شریف کے علوم سے اس کو حصہ نہیں دیا جاتا“۔فرماتے ہیں میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دنیا کی توجہ ارضی علوم کی طرف بہت جھکی ہوئی ہے اور مغربی روشنی نے تمام عالم کو اپنی نئی ایجادوں اور صنعتوں سے حیران کر رکھا ہے۔مسلمانوں نے بھی اگر اپنی فلاح اور بہتری کی کوئی راہ سوچی تو بد قسمتی سے یہ سوچی ہے کہ وہ مغرب کے رہنے والوں کو اپنا امام بنالیں اور یورپ کی تقلید پر فخر کریں۔یہ تو نئی روشنی کے مسلمانوں کا حال ہے۔جو لوگ پرانے فیشن کے مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو حامی دین متین سمجھتے ہیں ، ان کی ساری عمر کی تحصیل کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ صرف ونحو کے جھگڑوں اور الجھیڑ وں میں پھنسے