خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 39

خطبات مسرور جلد پنجم 39 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء دے اور تو ہمیں ایسا یقین عطا کر جس سے تو ہم پر دنیا کے مصائب آسان کر دے اور تو ہمارے کانوں ، ہماری آنکھوں ، ہماری قوتوں سے تب تک فائدہ اٹھانے کی توفیق دے جب تک تو ہمیں زندہ رکھے اور اسے ہمارا وارث بنا اور ہمارے اوپر ظلم کرنے والے سے ہمارا انتقام لینے والا تو ہی بن۔اور ہم سے دشمنی رکھنے والے کے مقابل پر ہماری مدد فرما۔ہمارے مصائب ہمارے دین کی وجہ سے نہ ہوں اور دنیا کمانا ہی ہماری سب سے بڑی فکر اور ہمارے علم کا مقصود نہ ہوا اور تو ہم پر ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔(ترمذی کتاب الدعوات باب نمبر 82/79 حدیث نمبر (3502 پس یہ دعا آج کل بھی احمدیوں کو بہت کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہر اس ملک میں جہاں بھی بے رحم حاکم ، احمد یوں کو اور اپنی رعایا کو ظلم کی چکی میں پیس رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ نجات دلائے اور آزادی سے ہر جگہ احمدی اپنے دین اور مذہب کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں۔اب آنحضرت علیہ کی زندگی میں ہونے والے چند واقعات اور آپ کی سیرت کے بعض حوالے جن میں صفت رحمانیت کا ذکر ہے وہ پیش کرتا ہوں۔حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھنے کی جرات کر لیا کرتے تھے جن کے بارے میں کوئی اور نہیں پوچھتا تھا۔انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ علیہ نبوت کے معاملے میں آپ نے سب سے پہلے کیا چیز دیکھی؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ سید ھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے ابوہریرہ ! تو نے اس وقت کے بارے میں پوچھا ہے جبکہ میں صحرا میں دس سال اور چند ماہ کی عمر کا تھا۔اوپر سے آواز آتے ہوئے میں کیا سنتا ہوں کہ ایک آدمی دوسرے سے کہہ رہا ہے کہ کیا یہ وہی ہے؟ شخص نے کہا ہاں!۔پھر وہ میرے سامنے ایسے چہروں کے ساتھ آئے جنہیں میں نے مخلوق میں کبھی نہیں دیکھا۔وہ ایسی ارواح تھیں جنہیں مخلوق میں میں نے پہلے کبھی نہیں پایا تھا۔اور ان کے کپڑے ایسے تھے جو میں نے پہلے کسی کے نہیں دیکھے تھے وہ چلتے ہوئے میری طرف بڑھے۔یہاں تک کہ ان دونوں نے مجھے ایک ایک بازو سے پکڑ لیا لیکن میں نے ان کی گرفت کا مس محسوس نہ کیا۔اپنے بازو پر ان کی گرفت محسوس نہیں کی۔ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس کے سینے کو پھاڑ پھر ان میں سے ایک میرے سینے کی طرف جھکا اور اس کو اس طرح پھاڑا کہ مجھے نہ خون نظر آیا اور نہ ہی درد محسوس ہوا۔اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کینہ اور حسد اس میں سے نکال دے۔پھر ایک لوتھڑے جیسی چیز نکال کر اس نے دور پھینک دی۔اس کے بعد اس نے اپنے ساتھی سے کہا اب رافت اور رحمت کو اندر ڈال دے۔تو اُس نے چاندی جیسی کوئی چیز نکالی، پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلاتے ہوئے اُس نے کہا کہ اٹھوا اور سلامتی کے ساتھ جاؤ۔پھر میں واپس لوٹ آیا اس حال میں کہ ہر چھوٹے کے بارے میں میرے دل میں نرمی اور شفقت اور ہر بڑے کے لئے میرے دل میں رحم کے جذبات موجزن تھے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 133 مسند ابی بن کعب حدیث نمبر 21581 ایڈیشن 1998ء بیروت) دوسرے