خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 487
487 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ہیں۔انہوں نے تو کبھی نہیں کہا اور نہ کہ سکتے تھے۔وہ تو اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے۔قرآن کریم کی رو سے ایسے لوگ اہل علم نہیں کہلا سکتے۔اللہ تعالیٰ تو واحد ہے، غالب ہے اور حکمت والا ہے۔کیا جب وہ عزیز ہے اور سب طاقتوں کا مالک ہے تو کیا اسے کسی مددگار معبود کی ضرورت ہے؟ اس طرح تو پھر ہر خدا اپنی اپنی مرضی کرنے لگ جائے گا اور تمام کائنات کا نظام تہ و بالا ہو جائے گا۔یہ گواہی اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔اسلام تو خدا تعالیٰ کا یہ تصور پیش کرتا ہے کہ اس کا ہر فعل حکمت سے پُر ہے۔کیا یہ حکمت ہے کہ مقابلے پر اور خدا کھڑے ہوں؟ ایک عام عقل کا آدمی بھی ایسی حکمت سے عاری بات نہیں کر سکتا کہ اس کے دائرہ اختیار میں کوئی دوسرا ہر وقت دخل دینے والا ہے۔کجا یہ کہ خدا تعالیٰ جو عزیز ہے اور تمام دوسری صفات کا بھی جامع ہے اس کی طرف یہ باتیں منسوب کی جائیں۔تو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ سورۃ المومن میں فرماتا ہے کہ تَدْعُونَنِيْ لا كُفَرَ بِاللَّهِ وَاشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ وَّاَنَا اَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ (المومن: 43) کہ تم مجھے بلا رہے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا انکار کر دوں اور اس کا شریک اسے ٹھہراؤں جس کا مجھے کوئی علم نہیں اور میں کامل غلبے والے اور بے انتہا بخشنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں۔پس یہ عقل والوں کا جواب ہے۔یہ انبیاء کا جواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کوسکھایا اور انبیاء کے ذریعے سے ان کے ماننے والوں کو سکھایا۔اور جگہوں پر یہ بھی ہے کہ تم جس طرف بلا رہے ہو اس کی دلیل کیا ہے۔کیا ایسے خداؤں پر میں ایمان لاؤں جو کسی قسم کا نفع یا نقصان کی طاقت نہیں رکھتے۔یہ تو ایسی باتیں ہیں جو عقل سے عاری لوگوں کی باتیں ہیں۔میرا خدا تو وہ غالب خدا ہے جو میرے گناہوں کو بخشنے والا ہے اگر میں اس کے آگے جھکتے ہوئے استغفار کروں۔پس یہ جہالت کی باتیں تم تو کر سکتے ہو، میں نہیں کر سکتا۔جس کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مکمل ادراک ہو چکا ہے۔کیونکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے نورا ایمان سے بھر دیا۔یہ ایک مومن کا جواب ہوتا ہے۔اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے کہو میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو۔پس میں تو تمام طاقتوں والے خدا کی طرف بلاتا ہوں جو تمہیں نجات دے گا اور تم استغفار کرتے ہوئے اس کے آگے جھکوتا کہ اب تک جو برائیاں ہو چکی ہیں اس سے بخشے جاؤ اور نجات پاؤ اور پھر جب ایمان میں ترقی کرو گے، اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نجات سے اوپر کے بھی راستے ہیں۔جیسا کہ فرمایا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المومنون :2-3) یقیناً مومن فلاح پاگئے، اپنی مراد کو پہنچ گئے۔صرف گنا ہوں سے بخشش نہیں ہوتی بلکہ جو ایمان میں ترقی کرتے ہیں۔جو یہ تڑپ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم کریں۔پھر وہ خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوتے ہیں۔ان کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ہر نئے درجے پر پہنچ کر انہیں مزید نئے درجے حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پس یہ ہے معبود حقیقی سے تعلق پیدا کرنے والوں کا مقام کہ درجوں کے بڑھنے کے بعد درجے ختم نہیں ہو جاتے بلکہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔اب کوئی ہوش مند یہ فیصلہ کر سکتا ہے