خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 483
483 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم ہیں ان کے مخالفین کو ہمیں سزا دیتا اور پکڑتا ہوں اور ان کا نام ونشان تک مٹا دیتا ہوں۔اور بعض دفعہ اس طرح ہوتا ہے، بلکہ اکثر دفعہ، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ساتھ ان کی زندگی میں تو یہ خاص سلوک رکھا ہے کہ ان کے مخالفین عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔اگر اپنے نبی کے مقابلے میں آنے والے کسی کو محفوظ کیا تو تب بھی اسے عبرت کا نشان بنادیا جیسا کہ حضرت موسیٰ کے مقابلے پر فرعون کو۔فرعون جو خدائی کا دعوی دار تھا۔جس کو یہ زعم تھا کہ تمام لوگ میری رعایا ہیں۔مجھے سجدہ کرنے والے ہیں۔میرے سے بڑا اور کون ہو سکتا ہے اور خدا کیا چیز ہے؟ موت سامنے دیکھ کر اس نے جب معافی مانگنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب وقت گزر چکا ہے۔اب تمہاری بقیہ زندگی اور اس کے بعد تمہاری لاش یہ عبرت کا نشان بنی رہے گی کہ یہ خدائی کا دعوی کرنے والا تھا جو عبرت کا نشان بنارہا اور عبرت کا نشان بن کر آج تک پڑا ہے۔پس فرعون کا یہ انجام اس غالب خدا نے کسی بندے کے ذریعہ سے تو نہیں کروایا تھا۔اس کا یہ انجام تو اس پانی کی وجہ سے ہوا تھا جس کا چڑھنا اور اترنا خدا کے حکم کے مطابق تھا۔پس اللہ تعالیٰ کو اپنی عبادت، اپنی بادشاہت قائم کروانے کے لئے نہیں چاہئے بلکہ بندوں کو جو اس کے حکموں پر چلنے والے ہیں جزا دینے کے لئے ہے اور پھر اتنا بڑا انعام کہ تم میری وحدانیت کو قائم کر کے میری بادشاہت کے قیام کرنے والوں میں شمار ہورہے ہو۔پھر دیکھیں حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ خدا کا سلوک جسے خدا نے تمام دنیا میں اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ایک یتیم بچہ جو بچپن سے ہی خاموش اور علیحدہ رہنے والا تھا لیکن خدا نے آپ ﷺ پر ہی نظر ڈالی کیونکہ آپ سب سے بڑے عابد تھے۔اللہ تعالی بتانا چاہتا تھا کہ تم اس شخص کو جس کا بچپن یتیمی میں گزرا۔جو اپنے کام سے کام رکھنے والا ہے۔بظاہر دنیا کی نظر میں کمزور ہے۔لیکن میں نے اسے بچپن سے ہی اپنے اُس کام کے لئے چن کر تیار کر لیا ہے جو دنیا کی رہنمائی کا کام ہے اور یہ میرا وہ حقیقی عابد ہے جس کے مقابلے کا کوئی عابد نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسانوں میں میری صفات کا کوئی حقیقی پر تو ہو سکتا ہے تو یہ انسان کامل ہے۔پس اے مکہ والو! جسے آج تم کمزور سمجھ رہے ہو، کل یہ تمہارا حکمران ہوگا۔مکہ کے ابتدائی حالات دیکھیں۔کیا کیا ظلم تھے جو آپ پر روا نہیں رکھے گئے یا وہ ظلم آپ کے ماننے والوں پر نہیں ہوئے۔ان کے واقعات پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ آپ کے خلاف قتل تک کے منصوبے ہوئے لیکن فتح مکہ اس بات پر گواہ ہے کہ وہ معبود حقیقی جو عزیز اور غالب ہے جس کے آگے آپ مجھکتے تھے۔اس کے آگے اس کا عابد بندہ اور کامل انسان ہی آخر کو غالب آیا اور کفار مکہ کے وہ بُبت جن کی تعداد 360 تک پہنچی ہوئی تھی کچھ کام نہ آ سکے۔وہ بت جو انہوں نے خدا کے مقابلے پر گھڑے ہوئے تھے وہ ان کے کسی بھی کام نہیں آسکے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قُلْ اَرُونِيَ الَّذِينَ الْحَقْتُم بِه شُرَكَاءَ كَلَّا بَلْ هُوَ اللهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (سبا: (27) تو کہہ دے کہ مجھے وہ دکھاؤ تو سہی جنہیں تم نے شرکاء کے طور پر ان کے ساتھ ملا دیا ہے۔ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی اللہ ہے جو کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔