خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 480

480 خطبات مسرور جلد پنجم اور ملک میں۔تو عارضی تکلیفیں تو تم ہمیں پہنچا سکتے ہو۔لیکن اس قبولیت کی وجہ سے، اس ایمان کی وجہ سے، جو دلوں کا سکون ہم نے حاصل کیا ہے وہ دلوں کا سکون تم ہم سے نہیں چھین سکتے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہم سے وعدہ ہے کہ وہ حقیقی مومنوں کو اطمینان قلب عطا فرماتا ہے۔پس ہم تو ہمیشہ اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور یہ دعا بھی کرتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم (الفاتحه : 6) تاکہ تم لوگوں کی ظلم اور زیادتی کی وجہ سے کہیں ہم اپنے راستہ سے نہ بھٹک جائیں اور یہ نہ ہو کہ ہم ظلم کا جواب ظلم سے دینے لگ جائیں۔یہ نہ ہو کہ ہم میں بے صبری پیدا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو بھول جائیں کہ اِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِین۔پس ہمارا کام صبر کرنا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنیں۔اور اس تعلیم کے مطابق کام کئے جائیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتاری اور جس کا فہم و ادراک ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عطا فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعوئی بیعت میں صادق اور کون کا ذب ہے۔وہ جو کسی ابتلاء سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بد بختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی۔اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قو میں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان کے ساتھ سخت کراہت سے پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جولوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بز دلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجے سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ ہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔“ (رساله الوصیت روحانی خزائن جلد (20 صفحه 30 اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ہمیشہ اس صدق کے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق ، آپ کی خواہش کے مطابق حقیقی رنگ میں احمدیت کی تعلیم کو، اسلام کی تعلیم کو سمجھنے والے ہوں۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 14 تا 20 دسمبر 2007ء ص 5 تا 9)