خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 475
475 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اپنے ہمسایہ ملک افغانستان سے سبق سیکھو جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں دو شہید کئے گئے۔جن کے ذکر میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس مصیبت اور اس سخت صدمے سے تم غمگین اور اداس مت ہو کیونکہ اگر دو آدمی تم میں سے مارے گئے تو خدا تمہارے ساتھ ہے۔وہ دو کے عوض ایک قوم تمہارے پاس لائے گا اور وہ اپنے بندہ کے لئے کافی ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے“۔تذكرة الشهادتين۔روحانی خزائن جلد (20 صفحه (73 پس آج بھی جو شخص احمدیت کی وجہ سے شہید کیا جاتا ہے اور اپنے ایمان پر حرف نہیں آنے دیتا وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں سے حصہ پانے والا ہے۔کیا ان دو کو شہید کر کے احمدیت کا جو پودا تھا اس کو بادشاہ وقت نے اکھیڑ دیا ؟ کیا دنیا سے اس وجہ سے احمدیت ختم ہوگئی ؟ آج گو تھوڑی تعداد میں ہی سہی لیکن احمدی افغانستان میں بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق قومیں جماعت میں شامل کی ہیں۔ہر قوم کے سعید فطرت جماعت میں شامل ہورہے ہیں لیکن آپ نے افغانستان کی سرزمین کے بارے میں جو اندار فر مایا تھا اس کو ہم آج تک پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔آج تک افغانستان میں بے امنی کی کیفیت ہے۔خدا کے مسیح کے الفاظ یہ ہیں کہ ”ہائے اس نادان امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔تذكرة الشهادتين۔روحانی خزائن جلد 20 صفحه 74 ) فرماتے ہیں ”اے کابل کی زمین ! تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بدقسمت زمین ! تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے“۔تذكرة الشهادتين۔روحانی خزائن جلد 20 صفحه 74 پس ہر عقل رکھنے والے اور دیکھنے والی آنکھ کے لئے یہ کافی ثبوت اس بات کا ہونا چاہئے کہ جو شخص ان الفاظ کا کہنے والا ہے وہ یقیناً خدا کا مرسل ہے۔خدا کی طرف منسوب کر کے ایک بات کہہ رہا ہے اور آج سو سال بعد تک ہم ان الفاظ کے اثرات دیکھ رہے ہیں۔وہ بادشاہ جو مولویوں سے ڈر گیا تھا کیا اسے کوئی مولوی بچا سکا؟ یا اس کے خاندان کو بچا سکا؟ اور پھر آج تک کی بے امنی کی کیفیت کیا اس بات کا کافی ثبوت نہیں کہ یہ الفاظ، یہ انذار خدا کے خاص بندے کے ہیں؟ میں صرف اہل وطن کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عقل کے ناخن لو حکومت بھی اور پڑھے لکھے عوام بھی کہ لوگوں کو خدا نہ بناؤ ، خدا کا حقیقی خوف اپنے دل میں پیدا کرو۔پاکستان کی سرزمین مسلمانوں کی آزادی کے لئے لی گئی تھی اور اس سوچ کے ساتھ قائداعظم نے یہ ملک بنایا تھا کہ مسلمانوں کو ظلم سے نکالا جائے۔اسلام کی خوبصورت تعلیم کو لاگو کیا