خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 476

476 خطبات مسرور جلد پنجم جائے ، اس طرح کہ تمام مذاہب کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کا حق دیا جائے۔انصاف کے ساتھ پاکستان کے ہر شہری کے حقوق ادا ہوں، بلا امتیاز اس کے کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن اگر حکومتیں دوسروں کے مذہب میں دخل اندازی شروع کر دیں، اگر انصاف کا فقدان ہو، اگر ایک طبقے کے حقوق پامال ہوں اور دوسرے کے لئے کہا جائے کہ ٹھیک ہے جو کر رہا ہے وہ کرے، اگر ہتک ہے تو عدالت کی ہے تمہیں کیا ؟ تو یہ انصاف نہیں ظلم ہے۔پس جب دنیاوی انصاف کے تقاضے بھی پورے نہ کئے جائیں اور اللہ والوں کو مذہب کے نام پر ظلم کی چکی میں پیسا جائے تو ایسے لوگ ، ایسی حکومتیں پھر خدا تعالیٰ کے انعاموں کی حقدار نہیں ٹھہر تھیں۔اس لئے اہل وطن بھی اللہ کا خوف کریں، ہم احمدی بھی سب سے بڑھ کر اپنے وطن سے محبت کرنے والے ہیں۔پاکستان کی خاطر ہم نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔تقسیم کے وقت بھی جب پاکستان معرض وجود میں آیا ، اُس وقت بھی ہم نے جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اس کے لئے بڑا کردار ادا کیا۔پاکستان کی آزادی میں احمدیوں کا سب سے زیادہ کردار ہے اور مختلف جنگوں میں بھی۔آج بھی ہم اہل وطن کی خدمت اور ملک کی ترقی کے لئے اپنے وسائل استعمال کرتے ہیں جیسا کہ زلزلہ زدگان کی امداد کے سلسلہ میں بیان کر چکا ہوں۔آج میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی احمدی ہی ہیں جو کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتے ہیں جو سب سے زیادہ پاکستان کی بقا اور سالمیت کے لئے کوشش کرتے ہیں اور دعا بھی کرتے ہیں اور ہمارا کام بھی یہی ہے کہ اس کوشش میں اہل وطن کو اپنے اپنے حلقہ میں جیسا کہ میں نے کہا بتا ئیں کہ خدا کا خوف کرو اور ملک کو داؤ پر نہ لگاؤ۔پاکستان میں بہت بڑی تعدا د احمدیوں کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ احمدیوں کی دعائیں ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے پاکستان بچا ہوا ہے۔ورنہ یہ جو نام نہاد محب وطن ہیں ، ان کے کام ایسے نہیں ہیں کہ جو پاکستان کو بچاسکیں۔ان کی تو ہر کوشش ایسی ہے کہ پاکستان کے توڑنے کے درپے ہیں۔ہر ایک نے پاکستان کو داؤ پر لگایا ہوا ہے۔حیرت ہوتی ہے خبریں دیکھ کر۔یہاں یورپین پارلیمنٹ کی کارروائی میں نے ٹی وی پر دیکھی ، وہاں ایک ممبر پارلیمنٹ اس بات سے سخت اختلاف کر رہی تھیں اور بڑی شدت سے اس بات کا رڈ کر رہی تھیں کہ پاکستان کی امداد بند کی جائے کیونکہ بعض پاکستانی سیاسی حلقوں سے ہی یہ شور تھا۔ان کی دلیل یہ تھی کہ غریب عوام پر اس کا اثر ہو گا۔جس مقصد کے لئے ہم امداد دے رہے ہیں وہ جاری رہنی چاہئے۔یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے کہ پاکستان کو امداد لینی چاہئے یا نہیں ، ضرورت ہے کہ نہیں لیکن میں سوچ بتا رہا ہوں۔جبکہ اس کے مقابلے میں ہمارے سیاستدانوں میں ایک لیڈر صاحبہ یہ فرما رہی تھیں اور اسی طرح دوسرے لیڈر بھی کہ یورپین یونین اور یورپی ممالک پر زور دیا جائے کہ پاکستان کی امداد بند کریں اور پھر اس طرح حکومت دباؤ میں آئے گی۔تو یہ ہیں ملک کے ہمدرد جو شور مچاتے ہیں کہ ہم ہی ملک کو بچانے والے