خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 467

خطبات مسر در جلد پنجم 467 خطبہ جمعہ 16 / نومبر 2007 ء وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہوتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ تم اس بات کو نا پسند کرو لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس میں بہتری رکھی ہو۔اگر خدا کی رضا کے لئے اور دعا کرتے ہوئے یہ سلوک اپنی بیوی سے کیا جائے تو اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔جو گھر تباہی کے کنارے پر ہوتے ہیں، ٹوٹنے والے ہوتے ہیں اگر ان کے بچے ہیں تو بچے گھروں میں سہمے ہوئے ہوتے ہیں ، وہی گھر پھر اللہ کی رضا حاصل کرنے والوں کے لئے پُر امن اور پیار اور محبت قائم رکھنے والے بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مرد اور عورت دونوں کو ایک نصیحت یہ بھی فرما دی کہ حقوق کے لحاظ سے گو تم دونوں برابر ہولیکن مرد کو انتظامی لحاظ سے اور بعض طاقتوں کے لحاظ سے بعض ذمہ داریوں کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔اس لئے عورت کو اس بات کا بھی مرد کو مارجن (Margin) دینا چاہئے۔مردوں کو بھی فرمایا کہ تمہیں اگر قوام ہونے کے لحاظ سے فضیلت دی ہے تو ان ذمہ داریوں کو سمجھنا اور سنبھالنا بھی تمہارا کام ہے۔گھر کے انتظامات اور اخراجات کے لئے رقم مہیا کرنا بھی تمہارا کام ہے۔یہ نہیں کہ گھر میں پڑے رہو اور بیوی کو کہو کہ جاؤ جا کر باہر کماؤ اور کام کرو۔یہاں مغربی معاشرہ میں بعض گھروں میں یہ بھی ہو رہا ہے۔بیوی بچوں کی تمام ذمہ داری اٹھانا تمہارا کام ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جو عزیز اور حکیم ہے عورتوں اور مردوں کے حقوق قائم فرما دئے۔اور مردوں کو آخر پر عزیز اور حکیم کے الفاظ استعمال کر کے اس طرف توجہ دلا دی کہ یا درکھو عورتوں پر جو فوقیت تمہیں ہے اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھانا کیونکہ وہ عزیز خدا تمہارے اوپر ہے۔تمہارے سارے عمل دیکھ رہا ہے۔اس کی حکومت ہے۔اس کی تم پر نظر ہے۔تم اپنے اہل سے غلط سلوک کر کے پھر اس کی پکڑ میں آؤ گے۔پس اپنی حاکمیت کو، اپنی فوقیت کو عورتوں پر اس حد تک جتاؤ جہاں تک تمہیں اجازت ہے اور اپنے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ رکھو۔اور اگر ان باتوں کو مد نظر رکھو گے تو پھر اس حکیم خدا کی حکمت سے بھی فائدہ اٹھاؤ گے جس نے تمہیں فوقیت دی ہے۔پس یہ کامل غلبہ والے اور حکمت والے خدا تعالیٰ کے احکامات ہیں جن سے معاشرہ کا امن قائم ہوتا ہے۔گھروں کا سکون قائم ہوتا ہے۔نیکیاں پھیلتی ہیں۔اس پر حکمت تعلیم کا حسن دوبالا ہو کر پھیلتا چلا جاتا ہے۔لیکن اگر ان باتوں کی طرف توجہ نہیں ہوگی تو جہاں معاشرے کا امن برباد ہوگا وہاں ایسا شخص پھر اس عزیز اور غالب خدا کی پکڑ میں بھی آئے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر حکمت تعلیم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: میں ایک دعا کے لئے بھی کہنا چاہتا تھا۔پاکستان کے جو آج کل حالات ہیں ہر ایک کے سامنے ہیں اور حکومت بھی ، سیاستدان بھی اور نام نہاد اسلام کے علمبردار بھی ہر ایک ملک کی تباہی کے در پے ہے۔اللہ تعالیٰ اس ملک