خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 466
466 خطبہ جمعہ 16 / نومبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم میاں بیوی اب بسنا چاہتے ہیں لیکن دونوں طرف کے والدین کی اناؤں نے یہ مسئلہ بنالیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رشتہ داروں کو اس تعلق کے دوبارہ قائم ہونے میں روک نہیں بننا چاہئے۔اگر مرد کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو پھر جھوٹی غیرتوں کے نام پرلڑکی کا گھر برباد نہیں کرنا چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ عورت کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ عورتوں کا دستور کے مطابق مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا عورتوں پر۔یہ آیت تو میں نے پڑھی تھی۔اس کا ترجمہ بھی پڑھ دیتا ہوں۔فرمایا کہ " اور مطلقہ عورتوں کو تین حیض تک اپنے آپ کو روکنا ہوگا اور ان کے لئے جائز نہیں اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کر دی ہے۔اور اس صورت میں ان کے خاوند زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں واپس لے لیں اگر وہ اصلاح چاہتے ہیں۔اور ان عورتوں کا دستور کے مطابق مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا ان پر ہے حالانکہ مردوں کو ان پر ایک قسم کی فوقیت بھی ہے اور اللہ کامل غلبے والا اور حکمت والا ہے۔پس انسان ہونے کے ناطے اور ایک ایسے رشتے کے لئے جو ایک عہد پر قائم ہوا ہے مردوں کو بھی حکم ہے کہ عورت کے حقوق ادا کرو۔عورت کو بھی حکم ہے کہ مردوں کے حقوق ادا کرو۔اور جب دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھو گے تو رشتہ پائیدار ہوگا۔پس یہ حکم عورت کے حق قائم کرنے والا ہے۔اسلام کے یہی خوبصورت احکامات تھے جنہوں نے معاشرے کی کایا پلٹ دی۔اسلام سے پہلے عربوں نے عورتوں کو ہر قسم کے حق سے محروم کیا ہوا تھا بلکہ کسی مذہب نے بھی اس طرح حقوق قائم نہیں کئے جس طرح اسلام نے کئے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے بے شمار جگہ عورتوں کے حق قائم فرمائے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاهْلِهِ وَ أَنَا خَيْرُكُمْ لَا هُلِي۔(سنن ترمذی باب فضل ازواج النبي عل حدیث : 3895) یعنی تم میں سے خدا کے نزدیک بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں بہترین ہے اور میں تم سب میں اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والا ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا - وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء : 20) کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔اگر تم میں کوئی شخص اپنی بیوی کو نا پسند بھی کرتا ہو تو پھر بھی یاد رکھو کہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کونا پسند کرو مگر خدا تعالیٰ نے اس میں تمہارے لئے انجام کے لحاظ سے بڑی خیر مقدر کر رکھی ہو۔پس مرد کو بھی اپنے فیصلوں میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔بلکہ اس کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس چیز پر قدرت رکھتا ہے کہ انجام بہتر فرمائے۔آئے دن طلاقیں ہو جاتی ہیں اس لئے مردوں کو بھی غور کر کے سوچ سمجھ کے پھر فیصلے کرنے چاہئیں اور اس امر کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ بعض چھوٹی چھوٹی