خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 465
465 خطبہ جمعہ 16 / نومبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم میں رہنے دو، دوسرے بیوہ کوحق دیا ہے کہ اگر وہ شادی کر کے یا کسی وجہ سے ایک سال سے پہلے بھی گھر چھوڑ دیتی ہے تو یہ اس کا معروف فیصلہ ہے۔پھر عزیزوں رشتہ داروں کو اس میں روک نہیں بننا چاہئے کہ اب یہاں ضرور ایک سال رہو۔بعض تنگ کرنے کے لئے بھی کہہ دیتے ہیں۔بعض دفعہ رشتہ دار چاہتے ہیں کہ بیوہ شادی نہ کرے حالانکہ بیوہ کی شادی بھی ایک مستحسن عمل ہے۔تو ایسے روک ڈالنے والوں کے جواب میں حضرت خلیفہ مسح الاول نے وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ کی بڑی لطیف تشریح فرمائی ہے۔فرمایا کہ بعض لوگ بیوہ کی شادی کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ہماری عزت کے خلاف ہے۔خاص طور پر ہمارے پاکستانی اور ہندوستانی معاشرے میں بعض خاندانوں میں بہت زیادہ شدت پسندی ہے کہ یہ ہماری عزت کے خلاف ہے کہ بیوہ شادی کرے۔”میرا نام عزیز ہے اور میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں۔میں حکم دیتا ہوں کہ شادی کرے۔کیونکہ حکمت کے تقاضے کے تحت یہ حکم ہے اس لئے وہ سب جو میرے حکم سے ٹکرانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ میں عزیز اور غالب ہوں۔سب عزتیں میری طرف منسوب ہیں اس لئے میرے حکموں کی پابندی کرو اور جھوٹی عزتیں تلاش نہ کروتا کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی صفات سے فیض پانے والے ہو۔حقائق الفرقان جلد اول صفحه (375 پھر تیسری آیت عورتوں کے حقوق کے بارے میں ہے۔اور جو مطلقہ عورت ہے اس کے حق کے بارے میں ہے کہ اگر طلاق ہو جاتی ہے تو عورت کے لئے مقررہ عدت ہے جو متعین کردہ ہے اس کے بعد وہ آزاد ہے کہ شادی کرے۔دوسری جگہ حکم ہے کہ تم ان کی شادی میں روک نہ بنو۔بلکہ شادی میں مدد کرو اور اب وہ خود ہوش والی ہے اس لئے اگر وہ شادی کا فیصلہ کرے تو ٹھیک ہے۔لیکن عورتوں کو حکم ہے کہ طلاق کے بعد اگر تمہیں پتہ چلے کہ حاملہ ہو تو اپنے خاوند کو بتا دو، چھپانا نہیں چاہئے۔اگر شادی کے بعد کسی وجہ سے نہیں بنی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انتقام لینے لگ جاؤ اور جو اس بچے کا باپ ہے اس کو نہ بتاؤ کہ تمہارا بچہ پیدا ہونے والا ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ تمہارے بتانے سے ہو سکتا ہے کہ اس کا دل نرم ہو جائے اور وہ رجوع کرے اور گھر آباد ہو جائے۔فرمایا کہ خاوند زیادہ حق دار ہے کہ انہیں واپس لے لے اور گھر آباد ہو جائیں اور رنجشیں دور ہو جائیں۔دوسرے قریبیوں اور رشتہ داروں کو بھی حکم ہے کہ اس میں وہ روک نہ بنیں۔بعض دفعہ قریبی اور رشتہ دار بھی لڑکی کو خراب کر رہے ہوتے ہیں۔وہ اگر خاموش بھی ہے بلکہ رجوع کرنے پر رضامند بھی ہے تو قریبی شور مچادیتے ہیں کہ ایک دفعہ طلاق ہوگئی اب ہم لڑکی کو واپس نہیں بھیجیں گے۔انا اور عزتوں کے معاملے اٹھ جاتے ہیں۔کئی معاملات میرے پاس بھی آتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے جب بعض دفعہ جھوٹی غیرت دکھاتے ہوئے اپنی بچیوں کے گھر برباد کر رہے ہوتے ہیں۔بعض بچیاں پھر خط لکھتی ہیں کہ ہم دونوں