خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 464
خطبات مسر در جلد پنجم 464 خطبہ جمعہ 16 / نومبر 2007ء معاشرے میں جہاں بالکل حقوق ادا نہیں کئے جاتے تھے صحابہ کی کایا پلٹ گئی اور ان پر عمل کر کے دکھایا۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے، اور تم میں سے جو لوگ وفات دیئے جائیں اور بیویاں پیچھے چھوڑ رہے ہوں ان کی بیویوں کے حق میں یہ وصیت ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ایک سال تک فائدہ اٹھائیں اور نکالی نہ جائیں ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں، اس بارہ میں وہ خود جو معروف فیصلہ کریں اور اللہ کامل غلبہ والا اور صاحب حکمت ہے۔تو یہاں اللہ تعالیٰ نے بیوہ کا ایک مدت تک اپنے خاوند کے گھر میں رہنے کا حق قائم کر دیا۔عورت کے بارے میں یہ تو حکم ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں ہیوگی کی صورت میں اپنی عدت پوری کرے جو 4 ماہ 10 دن تک ہے لیکن اس کے بعد بھی ایک سال تک رہ سکتی ہے اگر وہ چاہے۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کا رجحان رکھتے تھے اور اس سے یہ استنباط کرتے تھے کہ عدت کی مدت کے علاوہ جو چار ماہ دس دن ہے، ایک سال کی اجازت ہے۔آپ کا یہ رجحان تھا کہ عورت کو جتنی زیادہ سے زیادہ سہولت دی جاسکتی ہے اس آیت کی رُو سے دینی چاہئے۔بعض دفعہ جب جائیداد کی تقسیم ہو تو اگر مرنے والے کا مکان ہو تو جو مکان ورثے میں چھوڑ کر جاتا ہے وہ اگر کسی اور کے حصے میں آ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تب بھی وہ صبر کرے اور ایک سال تک عورت کو تنگ نہ کرے، بیوہ کو تنگ نہ کرے۔کیونکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بھی یہ لکھا ہے اور آج بھی یہ اسی طرح ہو رہا ہے کہ اگر مثلاً عورت کے اولا د نہیں ہے یا کسی کے دو بیویاں ہیں یا تھیں تو پہلی بیوی کی اولاد یا اگر عورت کے اولاد نہیں تو مرد کے والدین یا اور دوسرے رشتہ دار، بیوہ، جس کے حصے میں مکان کی جائیداد نہ آئی ہو، اسے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک سال تک اس کا حق ہے اور کسی وارث کا حق نہیں بنتا کہ اس معاملے میں بیوہ پر دباؤ ڈالا جائے اور اسے تنگ کیا جائے ہاں اگر وہ خود جانا چاہیں تو بیوگی کی عدت پوری کر کے جاسکتی ہیں۔یہ فیصلہ عورت کے اختیار میں دیا گیا ہے۔عورت کو حق دیا گیا ہے کہ وہ معروف فیصلہ کرے یعنی ایسا فیصلہ جو قانون اور شریعت کے مطابق ہو۔پس ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ عزیز اور حکیم خدا کا حکم ہے۔آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم عورتوں کو ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مجبور کرو گے اور اس کے رشتہ داروں اور قریبیوں میں بھی اگر اس کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا تو اس کی مجبوری سے کوئی دوسرا نا جائز فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ہر چھوٹے سے چھوٹے اور دُور کے امکان کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی پر حکمت حکم فرمایا ہے۔عورت کے خاوند کے قریبیوں کو بھی تنبیہ کی ہے کہ ہمیشہ یاد رکھو کہ خدا کی ذات عزیز اور غالب ہے۔اگر اس کے حکموں پر عمل نہیں کرو گے تو اس کی پکڑ کے نیچے آؤ گے۔اس میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ایک تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ عورت کو ایک سال تک گھر