خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 463
463 خطبہ جمعہ 16 / نومبر 2007 ء خطبات مسر در جلد پنجم اگر تمہیں کسی تکلیف میں نہیں ڈالا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ جو جائز سہولت دی ہے کہ یتیم کے مال میں سے اس کی پرورش پر خرچ کر سکتے ہو اس سے ناجائز فائدہ اٹھاؤ اور اس کا مال دونوں ہاتھوں سے لگا دو۔پس ہمیشہ یا درکھو کہ نا جائز طریقے سے یتیم کا مال کھانے سے تم پکڑ کے نیچے آؤ گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَمَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا (النساء : 11) جو لوگ ظلم سے یتیموں کے مال کھاتے ہیں وہ یقینا اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھرتے ہیں۔پس یتیم کی پرورش ، اس کے مال کی حفاظت، اس کو معاشرے کا فعال حصہ بنانا، ایک انتہائی اہم حکم ہے۔یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر انسان کہے کہ اس طرف توجہ نہ بھی دی تو کوئی حرج نہیں۔اللہ تعالیٰ اس آیت کے آخر میں جو میں نے تلاوت کی تھی فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔یہ کہہ کر پھر توجہ دلا دی کہ گو کہ یتیم کمزور ہے ، اس میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے حقوق کی حفاظت کر سکے یا دوسرے سے لے سکے لیکن معاشرے کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے، جو لوگ یتیم کے نگران بنائے گئے ہیں ان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ یتیم تو عزیز نہیں ہے، غالب نہیں ہے، طاقت والا نہیں ہے لیکن ان کے اوپر ایک عزیز اور غالب خدا ہے، اس کا ہاتھ ہے جو تمہارے سمیت کا ئنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور اگر یتیم کے حقوق کی حق تلفی کرو گے تو خدا تعالیٰ ضرور تم پر پکڑ کرے گا۔پس اللہ تعالیٰ جو حکیم ہے، اس نے حکمت کے تحت اگر تمہیں یہ چھوٹ دی ہے کہ حسب ضرورت کم از کم مال یتیم کے مال میں سے خرچ کر سکتے ہو تو تمہیں بھی ہمیشہ حکمت کے پیش نظر یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور عارضی فائدوں کی بجائے دُور رس نتائج کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے جس سے معاشرے کا فساد بھی ختم ہو، آپس میں محبت و پیار اور بھائی چارے کی فضا بھی پیدا ہو اور پرورش کرنے والے خود بھی اپنے پیٹوں میں آگ بھرنے سے محفوظ رہیں اور جلنے کے عذاب سے بھی بچے رہیں۔پھر دوسری آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں معاشرے کے ایک اور کمزور طبقہ یعنی بیوہ کا ذکر ہے۔ایک تو عورت ویسے ہی عمو ماً معاشرے میں کمزور سمجھی جاتی ہے۔اس پر اگر وہ بیوہ ہو جائے تو اکثر معاشرے اس کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔خاص طور پر کم ترقی یافتہ معاشروں میں اور ایسے معاشروں میں بعض پڑھے لکھے جو لوگ ہیں وہ بھی پھر ماحول کے زیر اثر زیادتی کر جاتے ہیں۔مسلمانوں کو تو خاص طور پر عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی طرف توجہ دینی چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ نے بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے۔ترقی یافتہ ممالک تو آج عورت کے حقوق کا نعرہ لگا رہے ہیں لیکن ہمیں تو قرآن کریم نے چودہ صدیاں پہلے ہی ان حقوق کی طرف توجہ دلا دی اور اگر اُس زمانے کی معاشرتی روایات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے لیکن نہ صرف اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق قائم کئے بلکہ اُس