خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 462 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 462

خطبات مسرور جلد پنجم 462 خطبہ جمعہ 16 / نومبر 2007 ء پرورش کر سکو اور یتیم کے ماں باپ نے اگر کوئی مال چھوڑا ہے تو پھر اس میں سے احتیاط سے صرف اتنا ہی خرچ کرو جس سے اس کی ضرورت، جو حقیقی ضرورت ہے پوری ہو جائے اور جب وہ ہوش و حواس کی عمر کو پہنچ جائے تو پھر اس کا مال اسے واپس کر دو۔بعض دفعہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض قریبی بھی یتیم کا مال اس کی بلوغت کو پہنچنے کے بعد اس کے حوالے نہیں کرتے۔ماں باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد پر مستقل تصرف کئے رکھتے ہیں کہ ہم نے اس پر خرچ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کو یہ چیز انتہائی نا پسند ہے یتیم کی پرورش کے لئے نیت صاف ہونی چاہئے۔اگر نیتوں میں فتور آ جائے تو با وجود اس کے کہ بظاہر ایک شخص یتیم کی پرورش کر رہا ہوتا ہے، دوسروں کی نظر میں بڑا قابل تعریف ہوتا ہے کہ اس نے اپنے قریبی یا کسی بھی یتیم کی اچھی پرورش کی ہے یا کر رہا ہے لیکن اصل میں تو اس یتیم کے پیسے سے ہی پرورش کر رہا ہوتا ہے، ہر ایک کو تو نہیں پتہ ہو گا۔اور نہ صرف یہ کہ وہ پیسہ پرورش میں استعمال کر رہا ہوتا ہے بلکہ اس سے خود بھی فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔زیادہ مقصد خود فائدے اٹھانے کا ہوتا ہے۔اور جب یتیم کو بڑے ہو کر پتہ چلتا ہے کہ اس کی جائیداد تو اس کی پرورش کے نام پر اس کی پرورش کرنے والاختم کر چکا ہے، یا حیلوں بہانوں سے اسے دینا نہیں چاہتا تو پھر فساد شروع ہو جاتا ہے۔بھائیوں بھائیوں میں ڈوریاں پیدا ہو جاتی ہیں، ماموؤں ، چچاؤں اور بھائیوں بھتیجوں میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں، رنجشیں بڑھتی ہیں، مقدمہ بازیاں شروع ہو جاتی ہیں۔جماعتی نظام کے تحت اگر آتے ہیں تو مقدمے قضاء میں آ جاتے ہیں یا پھر عدالتوں میں چلے جاتے ہیں۔بعض لوگ جو خود ہی معاملات اندر ہی سمیٹنا چاہتے ہیں وہ پھر بعض دفعہ اصلاح احوال کے لئے مجھے لکھتے ہیں کہ ہمارے حق دلوائے جائیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو تو دھوکہ نہیں دے سکتے۔اللہ اصلاح کرنے والے کا فساد کرنے والے سے فرق جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس کا علم کامل ہے۔وہ انسان کی پاتال تک سے واقف ہے۔وہ جانتا ہے کہ یتیم کی پرورش کے شوق کے پیچھے نیت کیا ہے۔معاشرے کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے، عدالتوں میں تو مقدے جیتے جا سکتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔اللہ تعالیٰ تو ایک مومن سے یہ توقع رکھتا ہے کہ یتیم کا مال کھانے کا تو سوال ہی نہیں، تم ایک محبت کرنے والے بھائی کی طرح یتیم سے سلوک کرو۔نہ صرف اس کی پرورش کرو بلکہ اگر ہو سکے تو ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے میں اگر توفیق ہے تو اپنے پاس سے بھی خرچ کر دو۔ان کو کسی کام پر کسی کا روبار میں لگاؤ تا کہ وہ معاشرے کا فعال اور مفید حصہ بن سکیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَا عَنَتَكُم اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا تمہیں ایسا حکم دیتا جس سے تمہیں تکلیف ہوتی تمہیں حکم دیتا کہ اگر کسی یتیم کا باپ جائیداد چھوڑ گیا ہے تو تم نے پھر بھی اس پر تصرف نہیں کرنا اور یتیم کی جائیداد کی ایک ایک پائی اسے واپس لوٹانی ہے اور پرورش پر بھی خود خرچ کرنا ہے۔پس اللہ نے