خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 455

455 خطبات مسر در جلد پنجم خطبہ جمعہ 09 / نومبر 2007ء ہندوستان، جرمنی، برطانیہ، انڈونیشیا، تنزانیہ، بنین اور نائیجیریا شامل ہیں۔اس سال چندہ دینے والوں کی تعداد میں جو اضافہ ہوا ہے وہ گزشتہ سال کی نسبت 16 ہزار زائد ہے۔اتنے لوگ اس میں شامل ہیں اور کل تعداد 4 لاکھ 68 ہزار ہے۔گزشتہ سال جو تعداد پیش کی گئی تھی ، کچھ حساب ٹھیک نہیں لگایا گیا تھا، کچھ جمع تفریق میں غلطی ہوگئی ، اعداد کچھ غلط تھے ، کچھ جماعتوں کی رپورٹ صحیح نہیں تھیں، تو ان کا خیال تھا کہ اس دفعہ ٹوٹل تعداد نہ دی جائے بلکہ یہ بتایا جائے کہ اتنا اضافہ ہوا لیکن ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، دنیا کے لئے تو نہ ہم مالی قربانیاں کرتے ہیں اور نہ کر رہے ہیں، نہ یہ دنیا ہمارے پیش نظر ہے۔ہم جب تک اپنی کمزوریوں کو سامنے نہیں رکھیں گے، ان پر نظر نہیں رکھیں گے ترقی کی رفتار کا بھی پتہ نہیں لگا سکتے۔تو یہ تو بہر حال حتمی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 16 ہزار کی تعداد میں ان ملکوں میں زائد اضافہ ہوا ہے، زائد لوگ شامل ہوئے جو باقاعدہ پلاننگ کر کے اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو چندوں میں بڑھائیں، مزید تعداد کو شامل کریں۔بعض جگہوں کی رپورٹیں گزشتہ سال جب حساب کر رہے تھے ٹھیک نہیں تھیں اس لئے بظاہر لگے گا کہ کم ہیں لیکن مجموعی طور پر اضافہ ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ جب ہم اپنے جائزے لیں گے، جب ہم اپنی کمزوریوں پر بھی نظر رکھیں گے تو تبھی ہمارے کام میں بھی برکت پڑے گی اور کیونکہ نیک نیتی سے اس طرف توجہ ہوگی اس لئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی بنیں گے۔اصل مقصد تو ہمارا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ سے تو کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔اس لئے کسی بھی قسم کا خوف کرنے کی ضرورت نہیں۔بندوں سے تو ہم نے اجر نہیں لینا۔ہمارا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جس کی خاطر قربانیاں ہو رہی ہیں۔بہر حال مجموعی طور پر ان ملکوں میں 16 ہزار نئے افراد بھی شامل ہوئے۔پھر میں نے دفتر اول کے مرحومین کی تحریک کی تھی ، جن کی کل تعداد تین ہزار سات سو تینتا لیس تھی اس میں سے بھی تین ہزار چارسو چوالیس مرحومین کے کھاتے جاری ہو گئے جو ان کے ورثاء نے کروائے اور دوسوننانوے کھاتہ جات کو مجموعی مد سے ، مرکز میں جو لوگوں نے مد جمع کروائی تھی ، اس میں سے دوبارہ جاری کیا گیا ہے ، تو اس لحاظ سے دفتر اول کے تمام مرحومین کے کھاتے جاری ہو چکے ہیں۔پاکستان کا اپنا بھی ایک موازنہ پیش کیا جاتا ہے کہ کس کس جماعت نے کتنی ادا ئیگی کی اور اول دوئم اور سوئم پوزیشن آئی۔تو اس لحاظ سے لاہور نمبر ایک پر ہے، ربوہ دوسرے نمبر پر اور کراچی تیسرے نمبر پر ہے۔بعض پاکستان کی جماعتیں بھی پیش کی جاتی ہیں۔پاکستان کی جماعتوں کا ہمیشہ سے موازنہ کیا جاتا ہے، ان کو امید اور توقع ہوتی ہے کہ ان کا بھی نام لیا جائے تو نمایاں قربانی کرنے والی پاکستان میں دس جماعتیں ہیں۔راولپنڈی، اسلام آباد نمبر 3 ملتان، نمبر 4 کوئٹہ، نمبر 5 کنری، نمبر 6 ساہیوال نمبر 7 حیدر آباد، نمبر 8 بہاولپور، نمبر 9 نواب شاہ نمبر 10 ڈیرہ غازی خان