خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 453
خطبات مسرور جلد پنجم 453 خطبہ جمعہ 09 / نومبر 2007 ء اللہ پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے تو اللہ اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول فرمائے گا اور اُسے اُس کے مالک کے لئے بڑھاتا جائے گا یہاں تک کہ وہ پہاڑ جتنی ہو جائے گی جیسے تم میں کوئی اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے۔(صحیح بخارى باب الصدقة من كسب طیب حدیث (1410) پس یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ مال بڑھاتا ہے قرآن کریم میں بھی ہے اور حدیث سے بھی واضح ہوا۔لیکن اس شرط کو بھی یا درکھنا چاہئے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا جسے اللہ قبول فرماتا ہے پاک کمائی میں سے ہو جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔ایسی کمائی نہ ہو جو دھوکے سے کمائی گئی ہو، جو غریبوں کو لوٹ کر کمائی گئی ہو۔اللہ تعالیٰ اس مال کو اپنی راہ میں خرچ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جو پاک ذریعہ سے کمایا گیا ہو اور پاک دل کے ساتھ پاک کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہو۔اللہ تعالیٰ تو غنی ہے، اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ تو ہمارے دلوں اور ہمارے مالوں کو پاک کرنے کے لئے مالی قربانی کی طرف توجہ دلاتا ہے۔پس جب تک ہم اپنی پاک کمائیوں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کی رضا چاہتے ہوئے خرچ کرتے چلے جائیں گے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے انتہا اجر پاتے چلے جائیں گے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ، ہمارا ہر عمل ہمیں جماعتی طور پر مضبوط کرتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ہمارے ذرائع بھی وسیع تر ہوتے چلے جائیں گے اور ہم مومنین کی جماعت بن جائیں گے جو بنیان مرصوص کی طرح ہے، جو سیسہ پلائی ہوئی ہے جس پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا ہے، جس میں کوئی رخنہ نہیں ڈال سکتا۔ایسے لوگوں کی جماعت ہوتی ہے جو ہمیشہ عزیز خدا کی صفت عزیز کے جلوے دیکھنے والے ہوتے ہیں اور یقینا یہ جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنائی ہے مومنین کی وہ جماعت ہے جو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر کے مالی قربانیوں میں بڑھ کر پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے بھی دیکھتے ہیں۔ہم نے دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی تائید سے جو تحریک مخالفین کے حملوں کو رو کنے اور دنیا میں تبلیغ اسلام کے لئے جاری کی تھی جو یقینا اس حکیم اور عزیز خدا سے تائید یا فتہ تھی اور بڑی حکمت سے پر تھی اور نظر آ رہا تھا کہ اس کی وجہ سے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت نے دنیا میں پھیلنا ہے اور غلبہ حاصل کرنا ہے، جس کے تائید یافتہ ہونے کا ثبوت آج کل ہم دیکھتے ہیں تو دنیا میں پھیلے ہوئے جو جماعت کے مشن ہیں، مساجد ہیں اور پھر ہر سال جو سعید روحیں جماعت میں شامل ہوتی ہیں ان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔احرار جو قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے اٹھے تھے ، یہ دعویٰ لے کر کھڑے ہوئے تھے کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے، ان کا تو کچھ پتہ نہیں ہے کہ کہاں گئے لیکن جماعت احمدیہ تحریک جدید کی برکت سے، مالی قربانیوں کی برکت سے، ایک ہونے کی برکت سے، اللہ اور رسول کی اطاعت کی برکت سے، خلافت کی آواز پر لبیک کہنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ