خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 452
452 خطبہ جمعہ 09 / نومبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم نے اس کو پورا کرنے کے سامان بھی پیدا فرما دیئے۔اس سال پھر انہوں نے جو وہ وعدہ کیا تھا اس سے دو گنا وعدہ کر دیا۔تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق کہ وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 4 ) اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اسے خیال بھی نہ ہوگا، ایسا انتظام کیا کہ ان کی ضروریات بھی پوری ہو گئیں اور وعدہ بھی پورا ہو گیا۔اور لکھتے ہیں کہ اس پر اپنے اس سچے وعدوں والے خدا کی حمد سے دل بھر گیا۔لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے دل جتنے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جائیں ہم کبھی اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمیشہ اپنے دلوں کو حد سے بھرا رکھنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ جتنا تم شکر کرو گے اتنا بڑھاؤں گا اور اللہ جب بڑھاتا ہے تو کئی گنا کر کے بڑھاتا ہے۔تو ہمارا شکر تو وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتا جہاں تک اللہ تعالیٰ اس کا اجر دیتا اور بڑہاوا کرتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی حمد کرنے والوں اور اس پر تو کل کرنے والوں کے ایمان کو اور بڑھاتا ہے۔یہی صاحب لکھتے ہیں کہ سیکرٹری تحریک جدید نے جب کہا کہ اتنا وعدہ کر دیا ہے کہ کس طرح ادا کرو گے تو میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہیں فکر ہے تو اس خدا کو میری فکر نہیں ہوگی جس کی رضا چاہنے کے لئے اور جس کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے میں نے وعدہ کیا اور یہ خرچ کر رہا ہوں۔تو یہ حوصلے اور یہ تو کل احمد یوں میں اس لئے ہے کہ انہوں نے اس زمانے کے امام کی بیعت کی ہے اور بیعت میں آکر اللہ تعالیٰ کی صفات کا فہم و ادراک حاصل کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان میں بڑھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے۔ان کو اس بات پر یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے۔ان کو اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر خالص ہو کر کی گئی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔اُن کا اس بات پر قومی ایمان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خالصتاً اپنی خاطر کئے گئے ہر عمل کی بھر پور جزا دیتا ہے، اُن کو اس بات پر بھی یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ہر خوف کو امن میں اور ہر غم کو خوشی میں بدل دیتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ يُنفِقُونَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُون (البقره: 275 ) کہ وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں رات کو بھی اور دن کو بھی ، چھپ کر بھی اور کھلے عام بھی تو ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کریں گے۔پس جو خالصتا اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں، ان کا ہر خوف ، ہر غم اللہ تعالیٰ دُور کر دیتا ہے۔وہ اللہ کے ہو جاتے ہیں اور اللہ اُن کا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اُن کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالتا ہے۔جیسا کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے ایک کھجور بھی پاک کمائی میں سے اللہ کی راہ میں دی اور