خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 35

خطبات مسرور جلد پنجم 35 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء عليه وسلم اب دیکھیں جب ایک جنگ میں بعض صحابہؓ صحت ہونے کے باوجود شامل نہیں ہوئے تو آنحضرت علیا نے ان سے قطع تعلقی کر لی اور پھر ان کی بیویوں کو بھی حکم دیا کہ اُن سے کوئی تعلق نہیں رکھنا۔اُن میں سے ایک ایسے بھی تھے جن کی عمر زیادہ تھی لیکن اس سزا کی وجہ سے سارا دن روتے تھے اور بستر پر پڑے رہتے تھے اور اتنے کمزور ہو گئے تھے کہ ان کی بیوی نے کہا کہ ان کی تو یہ حالت ہے۔کیا مجھے اتنی اجازت ہے کہ میں کھانا وغیرہ پکا کر ان کو دے سکوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔تو یہ حالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آگئی کہ چار پائی سے اٹھ نہیں سکتا۔سارا دن استغفار پڑھ رہا ہے۔روتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود آپ نے یہ نہیں کہا کہ معاف کرتا ہوں آپ کو۔رحمۃ للعالمین تھے۔رحم کا جذبہ تو اندر تھا لیکن ایک سزا تھی جو اصلاح کے لئے ضروری تھی۔تو جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کا اعلان نہیں ہو گیا اس وقت تک انہوں نے سزا کاٹی۔اس لئے سزا لینے والے جو لوگ ہیں ایک تو یہ ہے کہ ان کو ویسے بھی یہ احساس کرنا چاہئے کہ بات پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔اگر غلطی کی ہے تو اس غلطی کا پھر مدا وا ہونا چاہئے۔پھر یہ نہیں ہے کہ اس پر اصرار کرتے چلے جائیں۔اور جب اصرار کریں گے تو بہر حال پھر تعزیر ہوگی اور جب تعزیر ہو جاتی ہے تو پھر اس پر یہ حوالے نہیں دینے چاہئیں کہ رحم کا سلوک ہونا چاہئے۔سزا کی وجہ بعض دفعہ روں کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنا ہوتی ہے۔تو جن کے حقوق مارے ہوتے ہیں وہ تو بہر حال ادا کرنے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ نظام جماعت کے تعلق میں بے قاعدگیاں ہوئی ہوتی ہیں ان بے قاعد گیوں کا جب تک مداوا نہ ہو جائے تو بہر حال ایک سزا تو ہے اور سزا اصلاح کے لئے ہوتی ہے۔اس لئے اس میں اور رحم میں ہر ایک کو فرق سمجھنا چاہئے۔بہر حال یہ ضمنا بات آگئی۔سلم پھر ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آنحضرت عیب اللہ فرماتے ہیں، زربی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بوڑھا آدمی نبی کریم عیدی یا اللہ سے ملنے کے لئے آیا۔لوگوں نے اسے جگہ دینے میں سستی سے کام لیا تو نبی کریم علی اللہ نے فرمایا جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بزرگوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء فى رحمة الصبيان حدیث نمبر (1919 تو جہاں بڑی مجلس ہو، جمعوں پہ جلسوں پہ، گھروں میں بھی بعض دفعہ یہ ہوتا ہے۔انصار اللہ کے اجتماع پر بھی میں نے ایک دفعہ خدام اطفال کو کہا تھا جبکہ بڑی عمر کے لوگ کھڑے اور چھوٹی عمر کے بیٹھے ہوئے تھے تو ان کو جگہ دینی چاہئے تو یہ خلق بھی ایسا ہے جو ہر احمدی میں، بچے میں، جو ان میں، مرد میں عورت میں نظر آنا چاہئے جس سے پھر ہم آنحضرت معیہ اللہ کی دعاؤں سے بھی حصہ لے رہے ہوں گے۔آپ نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔تو جو ہم میں سے نہیں ہوگا وہ دعاؤں سے حصہ کیسے لے گا۔تو آنحضرت عیب اللہ کی دعاؤں سے حصہ لینے کے لئے جو آپ نے امت کے لئے کیں ، ہر ایک کو ہر عمل کی کوشش کرنی چاہئے۔اور اس کے علاوہ پھر معاشرے میں بھی محبت اور پیار کی فضا پیدا ہوتی ہے۔