خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 447 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 447

خطبات مسر در جلد پنجم 447 45 خطبہ جمعہ 09 / نومبر 2007 ء فرمودہ مورخہ 09 نومبر 2007ء بمطابق 109 رنبوت 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔أَوْلَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (التوبة: 71) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔یہی ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا۔یقینا اللہ کامل غلبہ والا اور بہت حکمت والا ہے۔اس آیت میں، جیسا کہ ترجمہ سے سب نے سن لیا، مومن مردوں اور مومن عورتوں کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خوبصورت نشانیاں یا صفات جس گروہ یا جماعت میں پیدا ہو جائیں وہ حقیقی ایمان لانے والوں اور ایمان لانے والیوں کی جماعت ہے۔جیسا کہ ہم نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنین کی جماعت کی سات خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔پہلی خصوصیت یہ کہ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ایسے محبت کرنے والے ہوتے ہیں جو ہر وقت ایک دوسرے کی مدد پر کمر بستہ ہوں۔دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں، نیکیوں کا پرچار کرنے والے ہیں۔جہاں وہ اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے خیر چاہتے ہیں ، دوسروں کے لئے بھی خیر چاہنے والے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نیکیاں قائم کر کے اور پیار اور محبت قائم کر کے ایک ایسی جماعت بنادیں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر سچے دل سے عمل کرنے والی ہو۔تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ بری باتوں سے روکتے ہیں۔ہر ایسی بات جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نفی ہوتی ہے اس سے روکتے ہیں۔ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے والے ہیں۔ظالم کو ظلم سے روکنے