خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 439
439 خطبہ جمعہ 26 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ہے اور حکمت سے عاری ہے۔کیا ظلم کو روکنے کے لئے اور دفاع کے لئے مقابلے کا حکم پر حکمت ہے یا حکمت سے عاری ہے۔پس اللہ فرماتا ہے کہ میں باوجود غلبہ رکھنے کے بلاوجہ مخلوق پر ظلم کرتے ہوئے طاقت کا اظہار نہیں کرتا۔لیکن جو میرے بندوں پر ظلم کرتے ہیں ، ان کے خلاف ہیں، انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں ،ان کے خلاف پھر میں صفت عزیز کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں۔جہاں تک مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کا ادراک دلانے کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَانُ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ تُكُمُ الْبَيِّنَتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (البقرة: (210) پس اگر تم اس کے بعد پھسل جاؤ کہ تمہارے پاس کھلے کھلے نشانات آچکے ہیں تو جان لو کہ اللہ کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔یعنی اگر تم ان نشانات کو دیکھنے اور قبول کرنے کے بعد صحیح طرح عمل نہیں کرتے اور ڈگمگاتے رہے اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ دیتے رہے اور جب اللہ تعالیٰ تمہیں طاقت دیتا ہے تو پھر اس کا غلط استعمال کرتے رہے ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا نہ کرتے رہے تو یاد رکھو تمہارے اوپر بھی ایک غالب خدا موجود ہے جو تمہیں تمہارے ان ظلموں کی وجہ سے پکڑ سکتا ہے اور تمہارے سے تمہاری طاقت اور اختیارات چھین سکتا ہے۔پس ہمیشہ اس کے حکموں پر چلو، اس پر ایمان رکھو، اس پر ایمان کو مضبوط کرو۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں تو فیق دی ہے کہ ایسے عزیز اور حکیم خدا کو مانا جس کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں۔اگر اس خدا پر ایمان میں مضبوط نہیں ہوتے رہو گے اور اس کے احکامات پر عمل نہیں کرتے رہو گے ،حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں دو گے تو اس کی سزا کی پکڑ میں آسکتے ہیں۔اور اس کی سزا کسی ظلم کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ اس حکمت کے تحت ہوگی کہ تمہاری اصلاح ہو۔پس یہ عزیز اور حکیم خدا کا تصور ہے اسلام کو ماننے والے کے لئے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں پیش فرمایا ہے کہ ظلموں کا تو سوال ہی نہیں، اگر حقوق کی صحیح ادائیگی بھی نہیں ہورہی تو اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہو۔آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اسلام اور خدا تعالیٰ پر ہونے والے اعتراضات کے رد کے لئے عزیز اور حکیم خدا کا صحیح تصور پیش کرے جو حسن و احسان میں بھی یکتا ہے اور اگر بندوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑتا ہے تو پھر زبردستی اور ظلم سے نہیں پکڑتا بلکہ ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑتا ہے اور حد سے بڑھے ہوؤں کو اس لئے پکڑتا ہے کہ دنیا میں امن اور سلامتی قائم ہو۔جہاں یہ پیغام ہم نے غیر مذہب والوں کو دینا ہے، ان کے اعتراضات رڈ کرنے ہیں وہاں مسلمانوں کو بھی یہ پیغام ہے کہ تم کہتے ہو کہ ہم عزیز خدا کو مانتے ہیں جس کا قرآن نے تصور دیا ہے لیکن یاد رکھو کہ یہ حکم بھی ہے کہ نشانات دیکھ کر پھسلونہ۔عزیز وحکیم خدا کا تصور تب حقیقی رنگ میں مکمل ہو گا جب مسیح موعود جو آنحضرت ﷺ کے طل ہیں، غلام ہیں، ان کی شریعت کو دنیا پر لاگو کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں، جن کا آنا بھی عزیز اور حکیم خدا کی طرف سے ہے ، ان کے ساتھ اب دین کے غلبہ کا وعدہ ہے۔پس اس دعوئی اور مسیح موعود کے پیغام