خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 438

438 خطبه جمعه 26 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم دلوں میں طاری کرو۔اسلام نے جس خدا کا تصور پیش کیا ہے اس نے تمام انبیاء کو وعدہ کے مطابق دشمن سے بچایا ہے۔کیا یہ لوگ ایسے خدا کا تصور پیش کرنا چاہتے ہیں جو اپنے پیاروں کو دشمن سے بھی بچانے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔اللہ فرماتا ہے کہ اگر اللہ اپنے پیاروں کی حفاظت کرنے والا نہ ہو، اگر خدا اپنی طاقت اور غلبہ والا ہونے کا اظہار کرنے والا نہ ہو تو دنیا میں فساد پڑ جائے ، اسی لئے مسلمانوں کو جنگ کی اجازت بھی دی گئی تھی۔جو یہ الزام لگاتے ہیں کہ تشدد کا حکم ہے تو اجازت اس لئے دی گئی تھی کہ اپنی حفاظت کریں اور فساد سے بچنے کے لئے یہ ضروری چیز ہے۔سورۃ حج میں اس کا بیان ہوا ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا۔وَلَيَنْصُرَنَّ الله مَنْ يَّنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِیز (الحج: 41) یعنی اگر خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہ ہوتی کہ بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرتا تو ظلم کی نوبت یہاں تک پہنچتی کہ گوشہ گزینوں کے خلوت خانے ڈھائے جاتے اور عیسائیوں کے گرجے مسمار کئے جاتے اور یہودیوں کے معبد نابود کئے جاتے اور مسلمانوں کی مسجد میں جہاں کثرت سے ذکر خدا ہوتا ہے منہدم کی جاتیں۔اس جگہ خدا تعالیٰ یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ان تمام عبادت خانوں کا میں ہی حامی ہوں اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلاً کسی عیسائی ملک پر قبضہ کرے تو تو ان کی عبادت خانوں سے کچھ تعرض نہ کرے اور منع کر دے کہ ان کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں“۔ان کو چھیڑا نہ جائے ، ان کو گرایا نہ جائے۔اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ کوئی اسلامی سپہ سالار کسی قوم کے مقابلے کے لئے مامور ہوتا تھا تو اس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور فقراء کے خلوت خانوں سے تعرض نہ کرے۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصب کے طریقوں سے دور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گر جاؤں اور یہودیوں کے معبدوں کا ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے۔ہاں البتہ اس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دے دیا ہے“۔چشمه معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحه 393-394 تفسیر حضرت مسیح موعود جلد سوم صفحه 333-334) پس کیا ایسے حالات میں جبکہ دنیا کا امن قائم کرنا ہو ان لوگوں کے نزدیک ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے؟ کیا اگر ان اعتراض کرنے والوں پر اس طرح حملہ ہو اور ان کو مسلسل تنگ کیا جاتا رہے تو وہ ہتھیار اٹھا ئیں گے کہ نہیں۔ہتھیار بنانے کے کارخانے اور جدید ترین ہتھیار اور جدید ترین اسلحہ سے لیس فوجیں تو ان ملکوں کی ہیں جن کے بعض لوگ اسلام پر شدت پسند ہونے کا اعتراض کرتے ہیں۔یا یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا خدا تشدد کی تعلیم دیتا