خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 437
437 خطبه جمعه 26 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم سے ٹکر لی ہے جو غلبہ والا اور سزادینے والا ہے۔پس ایسے لوگ اپنی زیادتیوں سے باز نہ آنے کی وجہ سے سزا کے حقدار ٹھہرتے ہیں اور یہ تسلی ہے رسول کو، اللہ کے نبی کو اور اس کے ماننے والوں کو جیسا آنحضرت ﷺ کو دی تھی۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے والوں کو بھی تسلی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا بلکہ جس طرح پہلے وعدہ پورا کرتا آیا ہے، آج بھی مخالفت سے باز نہ آنے والوں کے حصے میں رسوائی ہے اور ان کی سزا مقدر ہے۔پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَهْدِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُّضِلَّ أَلَيْسَ اللهُ بِعَزِيزِ ذِى انتِقَامِ (الزمر : 38) اور جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔کیا اللہ کامل غلبے والا اور انتقام لینے والا نہیں ہے؟ یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تسلی دلائی ہے کہ جو اللہ سے تعلق جوڑنے والے ہیں، انہیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور مخالفین کے لئے یہ بات لکھی گئی ہے کہ ان کو اس مخالفت کی وجہ سے ضرور سزا ملے گی جو وہ الہی جماعتوں کی کرتے ہیں تا کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ، ہدایت سے ہٹ کر ان کے ساتھ نہ مل جائیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بِعَزِيزِ ذِي انْتِقَام۔یہ کہ کر مومنوں کو ، ہدایت پانے والوں کو بھی تسلی دلائی ہے کہ تم ان دھمکیوں سے نہ ڈرو، اللہ کے آگے جھکتے ہوئے اس سے ہدایت کے راستے پر چلنے کی توفیق مانگتے رہو۔وہ غالب خدا یقینا تمہارے مخالفین کو پکڑے گا اور ہمیشہ پکڑتا آیا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت صالح کا ذکر کر کے فرمایا کہ قوی اور عزیز خدا نے حضرت صالح کے دشمنوں کو نابود کر دیا اس لئے کہ وہ حد سے بڑھنے والے تھے، اس قوم نے باوجود تنبیہ کے نہ صرف انکار کیا بلکہ اس اونٹنی کی کونچیں بھی کاٹ دیں جس سے منع کیا گیا تھا۔تو پھر قوی اور العزیز خدا نے عذاب دکھایا۔پھر آل فرعون کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَذَّبُوا بِایتِنَا كُتِهَا فَاخَذْنَهُمْ أَخْذَ عَزِيزِ مُقْتَدِرٍ (القمر: (43) انہوں نے ہمارے نشانات کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں کامل غلبہ والے اور طاقتور اور مقتدر کی طرح پکڑ لیا۔پس یہ بیان کر کے اُن لوگوں کو بھی توجہ دلائی جو ظلم میں حد سے بڑھنے والے ہیں۔خدا اور اس کے رسول ﷺ کا انکار اور استہزاء کرنے والے ہیں کہ تم لوگ بھی اپنی حدوں کے اندر رہو۔آج بھی جو استہزاء اور زیادتیوں میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں ان کے لئے بھی یہ واضح حکم ہے، انذار ہے کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ اب قیامت تک ممتد ہے، قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور آپ کے عاشق صادق کے آنے کے بعد یہ پیغام دنیا تک پھیل چکا ہے۔اس لئے استہزاء اور دلآزاری کی باتوں اور حرکتوں سے باز آ جاؤ ورنہ قادر، غلبہ والا خدا تمہیں پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔تمہیں خدا کی طرف سے اپنی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں ملی ہوئی۔اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہیں خدا کی طرف سے کوئی ضمانت مل گئی ہے تو یہ تمہاری غلام نہی ہے۔پس اسلام کے خدا پر اعتراض کرنے کی بجائے ، رسول کریم ﷺ پر استہزاء کرنے کی بجائے ، اللہ کا خوف اپنے