خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 431
خطبات مسرور جلد پنجم 431 43 خطبہ جمعہ 26 /اکتوبر 2007ء فرموده مورخه 26 اکتوبر 2007ء بمطابق 26 را خاء 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا اسلام پر اعتراض کرنے والے ایک بہت بڑا اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے خدا کا جو تصور پیش کیا ہے وہ نعوذ باللہ بڑے ظالم اور ایسے قاہر خدا کا تصور ہے جو صرف عذاب دینے والا ہے اور اپنے ماننے والوں کو ختی اور تشد د کا حکم دیتا ہے۔اس دنیا میں بھی سزادینے والا ہے۔اور مرنے کے بعد بھی جہنم کا عذاب ہی لوگوں کے حصے میں آئے گا۔یہی باتیں قرآن کریم میں پیش کی گئی ہیں۔ہالینڈ میں ان کے منسٹر یا ایم پی تھے انہوں نے بھی اس قسم کا سوال اٹھایا تھا۔پوپ صاحب نے بھی اسلام کے پیش کردہ خدا کا اسی طرح مذاق اڑایا تھا اور اسی طرح دوسرے بھی ہیں جو چاہے کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں یا خدا کی ہستی کے انکاری ہیں، اکثر اسلام کی مثال دے کر یہ بات پیش کرتے ہیں کہ اسلام کا خدا بڑا جابر ، ظالم اور قاہر خدا ہے جس کی ہستی میں ، جس کے احکامات میں کوئی حکمت نہیں ہے اور خدا کی طرف منسوب ہونے والے سب احکامات نعوذ باللہ بے دلیل اور بے حکمت ہیں اور نتیجتا اسلام زبر دستی کرنے والا اور پر تشد د مذہب ہے اور اس وجہ سے مسلمانوں میں سختی اور تشہ دکار جحان زیادہ پایا جاتا ہے۔یہ بات تو واضح ہے کہ ان اعتراض کرنے والوں نے نہ تو قرآن کریم کو پڑھا جو پڑھنے کا حق ہے اور نہ ان کو سمجھ آ سکتا تھا اور نہ انہوں نے سمجھنے کی کوشش کی۔ان کے دل کینوں اور بغضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔اگر ان کے دل کینوں اور بغض سے بھرے ہوئے نہ ہوں، اگر ان لوگوں میں انصاف کی نظر ہو تو دیکھیں کہ اسلام میں سب سے زیادہ خدا کی ہستی کی دلیل دی گئی ہے۔اس کی صفات ایسی مثالیں دے کر سمجھائی گئی ہیں کہ اگر انصاف کی آنکھ بند نہ ہوتو اسلام میں خدا کے خوبصورت تصور سے زیادہ خوبصورت تصور کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی آ سکتا ہے۔اسلام میں تو خدا کے حسن واحسان کا تصور ابتدا میں ہی پہلی سورۃ میں ہی بیان ہو گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے حسن و احسان کا تصور سورۃ فاتحہ سے یوں پیش فرمایا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ : ” قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے، یعنی تمام صفات صرف اللہ کے نام میں ہیں " تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے یعنی صحیح، درست اور حقیقی ثابت ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کا ملہ اس میں پائی جاویں۔پس جبکہ ہر ایک قسم کی خوبی اس میں پائی گئی تو حسن