خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 428

428 خطبہ جمعہ 19 اکتوبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم اللہ تعالیٰ کے اسی وعدے کے مطابق ہے جو طاقتور ہے اور جن پر اپنی رحمت کا انعام نازل فرماتا ہے انہیں پھر غلبہ بھی عطا فرماتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ یہ اعتراض ہو کہ ایک عام آدمی کو کس طرح مقام مل گیا مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر غور کرنا چاہئے اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ انہیں بھی یہ پیغام پہنچائیں اور یہ پیغام پہنچانے کا فریضہ احسن رنگ میں سر انجام دینا چاہئے۔ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ۔اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ میرے ساتھ آپ کا مقابلہ تقویٰ سے بعید ہے کیونکہ آپ لوگوں کی دستاویز صرف وہ حدیثیں ہیں جن میں سے کچھ موضوع اور کچھ ضعیف اور کچھ ان میں سے ایسی ہیں جن کے معنی آپ لوگ سمجھتے نہیں۔مگر آپ کے مقابل پر میرا دعویٰ علی وجہ البصیرت ہے اور جس وجی نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اور آنے والا مسیح موعود یہی عاجز ہے، اس پر میں ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ میں قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں اور یہ ایمان صرف حسن اعتقاد سے نہیں بلکہ وحی الہی کی روشنی نے جو آفتاب کی طرح میرے پر چمکی ہے یہ ایمان مجھے عطا فرمایا ہے۔جس یقین کو خدا نے خارق عادت نشانوں کے تواتر اور معارف یقینیہ کی کثرت سے اور ہر روزہ یقینی مکالمہ او مخاطبہ سے انتہا تک پہنچا دیا ہے اس کو میں کیونکر اپنے دل میں سے باہر نکال دوں۔کیا میں اس نعمت معرفت اور علم صحیح کو رد کر دوں جو مجھ کو دیا گیا ہے یا وہ آسمانی نشان جو مجھے دکھائے جاتے ہیں میں ان سے منہ پھیر لوں یا میں اپنے آقا اور اپنے مالک کے حکم سے سرکش ہو جاؤں، کیا کروں؟ مجھے ایسی حالت سے ہزار دفعہ مرنا بہتر ہے کہ وہ جو اپنے حسن و جمال کے ساتھ میرے پر ظاہر ہوا ہے میں اس سے برگشتہ ہو جاؤں۔یہ دنیا کی زندگی کب تک؟ اور یہ دنیا کے لوگ مجھ سے کیا وفاداری کریں گے تا میں ان کے لئے اس یار عزیز کو چھوڑ دوں۔میں خوب جانتا ہوں کہ میرے مخالفوں کے ہاتھ میں محض ایک پوست ہے جس میں کیڑا لگ گیا ہے۔وہ مجھے کہتے ہیں کہ میں مغز کو چھوڑ دوں اور ایسے پوست کو میں بھی اختیار کرلوں۔مجھے ڈراتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں لیکن مجھے اُسی عزیز کی قسم ہے جس کو میں نے شناخت کر لیا ہے کہ میں ان لوگوں کی دھمکیوں کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتا۔مجھے اس کے ساتھ غم بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ دوسرے کے ساتھ خوشی ہو۔مجھے اس کے ساتھ موت بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ اس کو چھوڑ کر لمبی عمر ہو۔جس طرح آپ لوگ دن کو دیکھ کر اس کو رات نہیں کہہ سکتے۔اسی طرح وہ نور جو مجھ کو دکھایا گیا میں اس کو تاریکی نہیں خیال کر سکتا اور جبکہ آپ اپنے ان عقائد کو چھوڑ نہیں سکتے جو صرف شکوک اور تو ہمات کا مجموعہ ہے تو میں کیونکر اس راہ کو چھوڑ سکتا ہوں جس پر ہزار آفتاب چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔کیا میں مجنون یا دیوانہ ہوں کہ اس حالت میں جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے روشن نشانوں کے ساتھ حق دکھا دیا ہے پھر بھی میں حق کو قبول نہ کروں۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہزار ہا نشان میرے اطمینان کے لئے میرے پر ظاہر ہوئے جن میں