خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 429

429 خطبہ جمعہ 19 اکتوبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم سے بعض کو میں نے لوگوں کو بتایا اور بعض کو بتایا بھی نہیں اور میں نے دیکھا کہ یہ نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور کوئی دوسرا بجز اس وحدہ لاشریک کے ان پر قادر نہیں اور مجھ کو ماسوا اس کے علم قرآن دیا گیا اور احادیث کے صحیح معنے میرے پر کھولے گئے۔پھر میں ایسی روشن راہ کو چھوڑ کر ہلاکت کی راہ کیوں اختیار کروں ؟ جو کچھ میں کہتا ہوں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں اور جو کچھ آپ لوگ کہتے ہیں وہ صرف ظن ہے۔اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (النجم: 29) اور اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک اندھا ایک اونچی نیچی زمین میں تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ کہاں قدم پڑتا ہے۔سو میں اس روشنی کو چھوڑ کر جو مجھ کو دی گئی ہے تاریکی کو کیونکر لے لوں جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ خدا میری دعائیں سنتا اور بڑے بڑے نشان میرے لئے ظاہر کرتا اور مجھ سے ہمکلام ہوتا اور اپنے غیب کے اسرار پر مجھے اطلاع دیتا ہے اور دشمنوں کے مقابل پر اپنی قومی ہاتھ کے ساتھ میری مدد کرتا ہے اور ہر میدان میں مجھے فتح بخشا ہے اور قرآن شریف کے معارف اور حقائق کا مجھے علم دیتا ہے تو میں ایسے قادر اور غالب خدا کو چھوڑ کر اس کی جگہ کس کو قبول کرلوں۔میں اپنے پورے یقین سے جانتا ہوں کہ خدا وہی قادر خدا ہے جس نے میرے پر تجلی فرمائی اور اپنے وجود سے اور اپنے کلام اور اپنے کام سے مجھے اطلاع دی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ قدرتیں جو میں اس سے دیکھتا ہوں اور وہ علم غیب جو میرے پر ظاہر کرتا ہے اور وہ قومی ہاتھ جس سے میں ہر خطرناک موقع پر مدد پاتا ہوں وہ اسی کامل اور بچے خدا کے صفات ہیں جس نے آدم کو پیدا کیا اور جو نوح پر ظاہر ہوا اور طوفان کا معجزہ دکھلایا۔وہ وہی ہے جس نے موسیٰ کو مدد دی جبکہ فرعون اس کو ہلاک کرنے کو تھا۔وہ وہی ہے جس نے حضرت محمد مصطفی علت اللہ سید الرسل کو کافروں اور مشرکوں کے منصوبوں سے بچا کر فتح کامل عطا فرمائی اسی نے اس آخری زمانے میں میرے پر تجلی فرمائی۔براهین احمدیه جلد پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه 296-298) | پس یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عزیز خدا کا اپنے ساتھ سلوک کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان اور اس اعلان کے بعد جو آپ نے مخالفین کو مخاطب کر کے فرمایا آپ کئی سال زندہ رہے اور چیلنج بھی دیا۔کوئی مخالف آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکا اور کسی مخالف کا کوئی حربہ بھی آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا۔کیونکہ یہ اس بچے خدا کا آپ سے وعدہ تھا جو اپنے فضل سے جب اپنا انعام اتارتا ہے تو اس کے پھر بہترین نتائج بھی پیدا فرماتا ہے۔اپنے غالب اور قوی ہونے کا ثبوت بھی دیتا ہے۔آج دنیا میں جماعت احمدیہ کی ترقی انہی باتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔لیکن دشمن پہلے بھی انبیاء کی جماعتوں کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں لگے رہے اور آج بھی لگے ہوئے ہیں اور جہاں بھی موقع ملتا ہے احمدیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔مختلف جگہوں سے کبھی مار دھاڑ کبھی دوسرے ظلموں کی اور کبھی اِکا دُکا احمدیوں کی شہادتوں کی خبریں بھی آتی ہیں۔لیکن آج تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچی پیروی کرنے والوں کے ایمانوں کو یہ دھمکیاں اور یہ ظلم کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ان کے ایمانوں کے پائیز ثبات میں کبھی