خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 426 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 426

426 خطبہ جمعہ 19 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم بعض انبیاء کے ساتھ یہ صورتحال نہیں۔اس کے بعد فرمایا قومی کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی نصرت کرنے کی قوت رکھتا ہے اور وہ عزیز یعنی غالب ہے اور کوئی اسے اپنی مراد کے حصول سے روک نہیں سکتا کیونکہ اس کے سوا سب ممکن الوجود ہیں اور اللہ واجب الوجود ہے۔یعنی باقی سب تو مخلوقات ہیں، ان کا وجود ممکن ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وجود حق ہے، ہمیشہ سے ہے اور جو واجب الوجود ہے وہ ممکن الوجود پر غالب ہوتا ہے۔(تفسير كبير امام رازى تفسير سورة المجادله زیر آیت (22) | پھر روح المعانی میں كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِى إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ کے تحت علامہ ابو الفضل شہاب الدین آلوی لکھتے ہیں کہ لَا غُلبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی یعنی حجت اور تلوار یا اس کے متبادل کے ساتھ یا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ غالب آئیں گے۔رسولوں کے غلبہ میں یہ بات کافی ہے کہ حجت کے علاوہ ان رسولوں کے زمانے میں ان کی حقانیت ثابت ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے دشمنوں کو مختلف قسم کے عذابوں سے ہلاک فرما دیا۔جیسے قوم نوح ، قوم صالح اور قوم لوط وغیرہ اور ہمارے نبی ﷺ کے مخالفین کو جنگ کے ذریعہ سے ہلاک کیا۔اگر چہ ان جنگوں کے نتائج بعض دفعہ ( ڈول کی طرح) ناموافق بھی رہے لیکن انجام کار آنحضرت ﷺ کو ہی غلبہ حاصل ہوا۔اسی طرح آپ کے بعد آپ کے متبعین کے ساتھ بھی یہی سلوک ہے (لیکن ایک شرط کے ساتھ ) جب ان کا جہا د رسولوں کے جہاد کی طرح خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ملک سلطنت اور دنیاوی اغراض کے لئے نہ ہو تو ایسے مجاہدین غالب اور منصور رہیں گے۔تاہم بعض مفسرین نے صرف دلائل کا غلبہ ہی مرا دلیا ہے لیکن یہ اس سے اختلاف کرتے ہیں۔(تفسير روح المعانى تفسير سورة المجادله زیر آیت نمبر (22 تو یہ جہاد کی جو اغراض بتائی گئی ہیں یہ اغراض آج تلوار سے جہاد کرنے والوں پر پوری نہیں اتر رہیں۔اسی لئے غلبہ بھی نہیں مل رہا۔خدا کی صفت قوی اور عزیز میں تو کمی واقع نہیں ہوئی۔تو صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے عمل میں کمی واقع ہوئی ہے۔نیتوں میں فتور ہے۔اس لئے نتیجہ موافق نہیں نکل رہا۔ابو محمد عبد اللہ قرطبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو دلائل کے ساتھ بھیجا اور وہ دلائل کے ساتھ غالب آئے۔تو یہ زمانہ جو حضرت مسیح موعود کا زمانہ ہے یہ دلائل کی جنگ کا زمانہ ہے اور مسیح موعود کی جماعت یہ جنگ ان براہین اور دلائل سے لڑ رہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کو عطا فرمائے تھے۔زمین کے کناروں سے لوگ اس مرکز کی طرف آہستہ آہستہ جمع ہورہے ہیں جس کو دلائل کی تلوار دی گئی، جو اسلام کے محاسن ایسے خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے کہ دل گھائل ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بھی الہاما یہ فرمایا تھا کہ كَتَبَ الله لَاغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِيِّ۔وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى اَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ “ (یعنی) خدا نے قدیم سے لکھ رکھا ہے یعنی مقرر کر رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوں گے یعنی کو کسی قسم کا مقابلہ آ پڑے جو لوگ خدا کی طرف سے ہیں وہ مغلوب نہیں ہوں گے اور خدا اپنے ارادوں پر غالب ہے۔مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔(تذکره صفحه 317ایڈیشن چهارم مطبوعه (ربوه