خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 411
خطبات مسر در جلد پنجم 411 41 خطبہ جمعہ 12 اکتوبر 2007ء فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2007ء بمطابق 12 را خاء 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔وَإِذَا رَاَوُا تِجَارَةً اَوْ لَهُوَاءِ انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا۔قُلُ مَا عِندَ اللهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهُوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ۔وَاللهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ۔(الجمعة: 10 تا 12) آج ہم اس رمضان کے آخری دن سے گزر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں پھر اپنی رحمت سے اس سال اپنے گناہوں کی بخشش کے سامان پیدا کرنے ، نیکیوں کو احسن رنگ میں بجالانے اور ان پر دوام اختیار کرنے اور اپنی رضا کے حصول کے لئے عطا فرمایا۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ سب جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کے نزول کے ان خاص دنوں سے فیض پایا۔آج یہ جو جمعہ کا دن ہے ، اس دن کی اپنی بھی ایک خاص اہمیت ہے اور اس دن کی اہمیت کا رمضان کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کی اہمیت کے بارہ میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے اور احادیث میں بھی آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کی مختلف رنگ میں وضاحت فرمائی ہے۔گو کہ عامتہ المسلمین کی اکثریت اور بعض احمدی بھی سمجھتے ہیں کہ یہ رمضان کا جو آخری جمعہ ہے اس کی خاص اہمیت ہے اور ایک مومن قبولیت دعا کے نظارے بھی اس جمعہ میں عام جمعوں سے زیادہ دیکھتا ہے۔اس لئے عموما ہم دیکھتے ہیں کہ اخباروں میں اس آخری جمعہ کے حوالے سے جسے ایک غلط نام دے کر جمعۃ الوداع بھی کہا جاتا ہے، بڑی خاص اہمیت کے ساتھ مسلمان ممالک میں ، مساجد میں جمعہ کی حاضری کی تصاویر اور اماموں کے خطبات کے حوالے سے خبریں شائع کی جاتی ہیں۔بعض اخبار تو سپیشل ایڈیشن بھی شائع کرتے ہیں۔میڈیا کے اس غلط انداز نے رمضان کے اس آخری جمعہ کے بارہ میں یہ غلط تصور پیدا کر دیا ہے کہ چاہے سارا سال نمازیں بھی نہ پڑھو، جمعہ بھی نہ پڑھو، صرف جمعۃ الوداع پر جا کر جمعہ پڑھ لو تو تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔انہی غلط قسم کی بدعات نے قضاء عمری کا تصور بھی پیدا کیا ہوا ہے۔یہ انتہائی غلط تصور ہے۔اللہ تعالیٰ کا بہت شکر اور احسان ہے کہ ہم جو احمدی ہیں ہم اس بدعت سے عموما بچے ہوئے ہیں۔