خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 400 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 400

خطبات مسرور جلد پنجم 400 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007ء 20 ستمبر کو کلینک سے جب گھر آ رہے تھے تو ان کو اغواء کیا اور پھر راستے میں گولیاں مارکر ، فائر مار کر شہید کر دیا۔وہیں ان کی لاش پڑی رہی۔دو دن کے بعد اس جگہ سے ان کی لاش ملی۔ان کے بچے بھی ڈاکٹر ہیں۔ہمارے دوسرے شہید بھی ڈاکٹر ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر شیخ مبشر احمد صاحب۔یہ بھی کراچی کے ہیں۔ان کو 26 ستمبر کو شہید کیا گیا۔یہ کلینک میں آئے ہیں کار سے باہر نکل رہے تھے کہ دو آدمی جو وہاں کھڑے تھے انہوں نے ان کو فائر کر کے شہید کر دیا۔فوری طور پر ان کو زخمی حالت میں کلینک لے جایا گیا لیکن جانبر نہ ہو سکے اور شہادت پائی۔گزشتہ سال 2006ء میں ان کے بھانجے بھی اسی جگہ شہید کئے گئے تھے۔کالج آف نرسنگ کے پرنسپل تھے۔جناح ہسپتال میں پروفیسر تھے۔اچھے سوشل ورکر تھے۔غریبوں سے ہمدردی کرتے تھے۔کسی بھی نافع الناس وجود کو یہ لوگ نہیں چھوڑتے اور صرف اس لئے کہ کیونکہ یہ احمدی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر دوشہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کوصبر کی تو فیق عطا فرمائے۔ابھی انشاء اللہ جمعہ کی نماز کے بعد میں ان کی نماز جنازہ غائب پڑھوں گا۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 19 تا 25 اکتوبر 2007 ء ص 5 تا 8 )