خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 397

خطبات مسرور جلد پنجم 397 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء پھر دعا کی قبولیت کے لئے گیارھویں بات یہ ہے کہ دعا کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔تضرع اور زاری کی جائے ، ایسی تفرع اور زاری جو بچے کی طرح آہ و بکا کرنے والی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بچہ تو دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن یہ کیا سبب ہے کہ اس کی چینیں دودھ کو جذب کر لاتی ہیں؟ (تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اوّل صفحه (652) جب وہ پکارتا ہے تو ماں کے دودھ کو کھینچ لاتا ہے۔یہ مثال دے کر آپ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تضرع اور زاری سے کی گئی دعا ئیں جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہیں اور پھر قبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلا ہٹ ایسی ہی اضطراری ہو۔تو وہ اس کے فضل اور رحم کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: ” چاہیے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نہایت تضرع اور زاری و ابتہال کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی مشکلات پیش کرے اور اس دعا کو اس حد تک پہنچاوے کہ ایک موت کی سی صورت واقع ہو جائے ، اس وقت دعا قبولیت کے درجہ تک پہنچتی ہے۔“ ملفوظات جلد 3 صفحه 616 جدید ایڈیشن مطبوعه (ربوه پس اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے ، اس کی باتوں پر لبیک کہتے ہوئے ، اس پر ایمان کامل کرتے ہوئے جو دعائیں کی جائیں گی ، وہ خدا تعالیٰ کے حضور سے جواب پانے والی ہوں گی۔اور پھر فرمایا کہ ایسے لوگ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو يَرُشُدُونَ کے زمرہ میں آتے ہیں تو پھر ہدایت یافتہ ہوں گے۔ان کو جو راستہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا بتا دیا اس پر وہ ہمیشہ کے لئے چلتے چلے جائیں گے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر لبیک کہنے والے ہوں گے۔ایمان میں ترقی کی منازل طے کرتے چلے جانے والے ہوں گے۔پھر وہ یہ سوال نہیں کریں گے کہ بتا اللہ کہاں ہے۔بلکہ آنحضرت ﷺ کے دامن سے جڑ کر وہ اعلیٰ معیار کو حاصل کرتے ہوئے اپنے محبوب کو آمنے سامنے دیکھنے والے ہوں گے۔وہ آنحضرت ﷺ کی حدیث کے مطابق اس مقام سے ترقی کریں گے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے بلکہ وہ اپنی عبادتوں میں وہ معیار حاصل کرنے والے ہوں گے جس میں وہ بھی خدا کو دیکھ رہے ہوں گے۔پس اس رمضان میں ہمیں یہ معیار حاصل کرنے چاہئیں۔جب ہم یہ معیار حاصل کر لیں تو ہماری نماز یں اللہ تعالیٰ کا قرب پاتے ہوئے روزے کی معراج بن جائیں گی اور ہمارے روزے ہماری نمازوں کی معراج بن جائیں گے۔