خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 390

خطبات مسرور جلد پنجم 390 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء تو یہ گناہوں کی بخشش کے خاص نظارے ہمیں اس لئے نظر آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے روزوں کے مجاہدے کے ساتھ ایک خاص توجہ سے، خالص اس کا ہوتے ہوئے ، اپنے حضور جھکنے والوں کو ایک مقام دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی تلاش کرنے والوں ، اسے پکارنے والوں کو جواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔گو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی ہر وقت ہی ان لوگوں کی دعاؤں کو سنتا ہے جو خالص اس کا ہوتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔لیکن رمضان میں ایک خاص ماحول عبادات کا بن جاتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس مہینے میں پہلے سے بڑھ کر اپنے بندوں کی پکارسن رہا ہوتا ہے۔جیسا کہ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے، اس میں رمضان کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔حضرت سلمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں شعبان کے آخری روز مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ سایہ لگن ہونا چاہتا ہے اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے رکھنے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام کرنے کو فل ٹھہرایا ہے۔هُوَ شَهُرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ۔وہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی عشرہ رحمت ہے، درمیانی عشرہ مغفرت کا موجب ہے اور آخری عشرہ جہنم سے نجات دلانے والا ہے اور جس نے اس میں کسی روزے دار کو سیر کیا اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض سے ایسا مشروب پلائے گا کہ اسے جنت میں داخل ہونے سے پہلے بھی پیاس نہیں لگے گی۔(کنز العمال جلد 8 فصل فى فضله وفضل رمضان حدیث نمبر (24271 | پس رحمت کے دن بھی گزر گئے اور اب ہم مغفرت کے دنوں سے گزر رہے ہیں اور چند دن بعد ، تین چار دن بعد آخری عشرہ شروع ہونے والا ہے جو جہنم سے نجات دلانے والا ہے۔اس میں وہ رات بھی ہے جو دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے اور خاص رات ہے، اس میں جس کو وہ رات میسر آ جائے اللہ تعالیٰ اس کی کی ہوئی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔پس یہ چند دن ہمیں اب اس طرف توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں کہ اس مہینے کے فیض سے فیضیاب ہونے کی کوشش کریں۔اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اس کی مغفرت کی چادر میں لپٹنے کی کوشش کریں۔اپنے آپ کو اس زندگی میں بھی دنیا داری کی غلاظتوں کی جہنم سے نکالنے کی کوشش کریں اور آخرت کی جہنم سے بھی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں۔اپنے اس تمام قدرتوں والے خدا کی تلاش کریں جو اپنے بندے کی پکار پہ کہتا ہے کہ اِنِّی قَرِيبٌ۔لیکن یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض شرائط رکھی ہیں ان شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے تبھی اس کی رحمت حاصل ہوگی تبھی اس کی مغفرت کی چادر میں اپنے آپ کو لپیٹنے والے ہوں گے۔تبھی ہر قسم کی جہنم سے اپنے آپ کو دور کرنے والے ہوں گے اور تبھی ہم اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کے نظارے دیکھیں گے۔اس آیت کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”جب میرے بندے میرے بارہ میں سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں۔یعنی جب وہ لوگ جو