خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد پنجم 389 39 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2007ء بمطابق 28 رتبوک 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة: 187) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم رمضان سے گزر رہے ہیں۔جس کا آج سولہواں روزہ ہے۔یہاں تو باقی چودہ دن رہ گئے ہیں۔باقی دنیا میں بھی چاند دیکھنے کے بعد جہاں عید کا فیصلہ ہوتا ہے۔کہیں تیرہ روزے بقایا رہ گئے ہیں، کہیں چودہ روزے۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ ہماری روحانی اور اخلاقی حالتوں کو سدھارنے کے لئے اپنی رضا کے حصول کی کوشش کے لئے ، ہماری بخشش کے سامان مہیا فرمانے کے لئے، ہماری دعاؤں کی قبولیت کے لئے خاص طور پر مقرر فرمایا ہے۔یہ آیت جوئیں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے۔اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقینا میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔یہ آیت قرآن کریم میں ان آیات کے بیچ میں رکھی گئی ہے جن میں رمضان کے روزوں کی فرضیت اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام ہیں۔پس اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مہینہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول ، گناہوں کی بخشش اور قبولیت دعا کا مہینہ ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا ہلاک ہوا و شخص جس نے رمضان کو پایا اور وہ بخشا نہ گیا۔( سنن ترمذى كتاب الدعوات باب قول رسول الله رغم انف رجل حدیث نمبر (3545) پھر ایک حدیث ہے۔جو حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے ،اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔(صحیح بخاری کتاب الصوم۔باب فضل من صام رمضان )